علوم_القران 1
قرآن کریم میں زَوَّجَ یُزَوِجُ سے مشتق کلمات کا ہر جگہ معنی شادی وغیرہ نہیں ہوتا اور نہ ہر جگہ معنی جوڑا ہوتا ہے اور نہ ہر جگہ ملنا ہوتا ھے
زواج کا کسی جگہ معنی شادی ہے
کسی جگہ جوڑا ہے
کسی جگہ ملانا اور جوڑنا ہے
قرآن مجید میں ہے
احشروا الذین ظلموا وازواجھم
(ظالموں کو ان کے جوڑوں کے ساتھ اٹھاؤ)
یہاں ازواج سے مراد میاں بیوی نہیں ہے بلکہ تفسیر طبری میں ہے ازواج سے مراد امثال یعنی جو اعمال میں ان ظالموں جیسے ہیں
حضرت عمر فاروق رضی الله عنہ سے مروی کہ ازواج سے مراد اخوان بھائی مراد ہیں یعنی جو ان جیسے ہیں
شرابی شرابیوں کیساتھ زانی زانیوں کیساتھ سود خور سود خوروں کیساتھ ہوں گے
اور ابن عباس سے ایک روایت میں ہے ازواج سے یہاں مراد نساء ہیں
یعنی جو بیویاں ظلم و ناحق پر ابھارتی ہیں اور حرام و ناجائز کمانے پر مجبور کرتی ہیں وہ اپنے شوہروں کے ساتھ جہنم میں ہوں گی
زوج کا لغوی معنی ملنا اور جمع ہونا ھے جو واحد کے خلاف ہو وہ زوج ہے جوڑا ھے
اسی پر ہے
واذا النفوس زوجت
جب نفوس کو جوڑا جائے گا
یہاں بھی زوج سے مراد مثل ہونا یا ملانا ھے
تفسیر طبری میں ہے ہر انسان کو اس جیسے کے ساتھ ملا دیا جائے گا
حضرت عمر فاروق سے مروی کہ دو آدمی ایک سا عمل کریں گے تو جنت یا جہنم میں داخل ہوں گے اور ایک ساتھ ہوں گے
حدیث پاک میں ہے
المرء مع من احب
آدمی اسی کے ساتھ ہوگا جس سے محبت کرتا ھے
یہاں دنیا میں دوستی , یاری وہاں حشر میں مفید بھی ہے اور مضر بھی ہے
حدیث شریف میں ہے
المرء على دين خليله فلينظر أحدكم من يخالل
آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے تو تمہیں دیکھنا چاہئے کسے دوست بنا رہے ہو
{مسند احمد}
جو جس سے محبت کرتا ہے کل جنت میں یا جہنم میں اسی کے ساتھ رہے گا اگرچہ اس جیسے عمل نہ کرتا ہو
لہذا فلمی اداکاروں , سیاست دانوں اور دنیاوی لوگوں سے محبت نہ کریں ورنہ وہ تو دنیا میں موج مستی کرتے کرتے مر جائیں گے اور جہنم میں جائیں گے آپ ان سے محبت کی وجہ سے جہنم میں جائیں گے
عکرمہ سے مروی کہ زوج سے یہاں مراد جسم و روح کا جڑنا ھے یعنی جب روح اور جسم جوڑ دی جائیں گی
قرآن کریم میں ھے
یھب لمن یشاء اناثا و یھب لمن یشاء الذکور او یزوجھم ذکرانا و اناثا
جس کو چاہے لڑکیاں دے جس کو چاہے لڑکے دے یا جوڑے دے لڑکوں کے یا لڑکیوں کے
یہاں پر بھی یزوجھم سے مراد جمع کرنا ھے یعنی چاہے تو لڑکی لڑکا جمع کر دے
الغرض ترجمہ قرآن اور فہم کلامی الہی کے لیئے لغوی و مجازی معنی کا استعمال معلوم ہونا ضروری ھے ورنہ یضل بہ کثیرا و یھدی بہ کثیرا کا فرمان جاری ہوچکا ھے
یعنی الله رب العزت اس قرآن کے ذریعے بہتوں ہدایت دیتا ہے اور بہتوں کو گمراہ کرتا ہے
تو جو قرآن کریم کو اسلاف یعنی محدثین و فقہاء و اولیاء کرام کے بغیر سمجھنے کی کوشش کرے گا وہ گمراہ ہو جائے گا اور لوگوں کو گمراہ کرے گا
اسی لیئے ایسے لوگوں سے بچیں جو اولیائے کرام کو حجت نہ مانیں , جو علماء کے بغیر خود قرآن فہمی کے دعوے کریں
سیدمہتاب_عالم# ✍️
