دنیا کے غم بھلانے کا آسان مزے دار طریقہ

43 عشقِ_سیدِ_عالم

اقبال کے اس شعر

بازو ترا توحيد کي قوت سے قوي ہے
اسلام ترا ديس ہے ، تو مصطفوي ہے

سے جوش و ولولہ خون میں محسوس ہوتا ہے

اور حضرت رضا کے اس شعر سے

پھیر دیجے پنجۂ دیوِ لعیں
مصطفیٰ کے بَل پہ طاقت کیجیے

قوت و جلال کا دریا بہتا اور طوفان کی سی شدت ایمانی حرارت محسوس ہوتی ہے

دونوں وقت کے استاذ ہیں دونوں کے اشعار میں بے پناہ قوت و جذبہ ہے
مگر مجھے حضرت رضا کے شعر میں جوش و قوت زیادہ محسوس ہوتی ہے کیونکہ اقبال نے مومن کے بازو کو قوی کہا جبکہ حضرت رضا نے جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے بَل پر قوی ہونا قرار دیا
یعنی ہم خود کچھ نہیں بس ان کے ہونے سے ہمارا ہونا ہے ان کی قوت سے ہماری قوت ہے ان کی توحید سے ہماری توحید قائم ہے
کیوں نہ ہو
حضرت رضا کہتے ہیں
تو نے ایمان دیا تو نے جماعت میں لیا
تو کریم اب کوئی پھرتا ہے عطیہ تیرا

اقبال نے ہمیشہ خودی پر زور دیا جبکہ حضرت رضا نے خودی کو مٹانے پر زور دیا

رضا جو دل کو بنانا تھا جلوہ گاہِ حبیب
تو پیارے قیدِ خودی سے رہیدہ ہونا تھا
اور مزید کہا
اُن کے آگے دعویِ ہستی رضاؔ
کیا بکے جاتا ہے یہ ہر بار ہم

جب عشق انتہاء کو پہنچتا ہے تو خودی کا تصور کیا خودی کا وجود ہی باقی نہیں رہتا تصور کیا آئے گا؟
بس صرف محبوب کا تصور باقی رہتا ہے اور یہ تصور دنیا و آخرت کے تمام غم بھلا دیتا ہے
یقین کریں آپ دنیا کے جتنے بھی غموم و ھموم میں گرفتار ہیں بس اُن صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد میں رہا کریں ہر غم ہلکا ہو جائے گا

حضرت رضا نے کہا

ان کے نثار! کوئی کیسے ہی رنج میں ہو
جب یاد آئیں گے ہیں سب غم بھلا دیئے ہیں

آج دنیا میں جو لوگ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد آنے پر سب غم بھلا دیتے ہیں کل قیامت کی ہولناکیوں میں حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر وہاں کے سب غم بھلا دیں گے
لو وہ آئے مسکراتے ہم اسیروں کی طرف
خرمنِ عصیاں پہ اب بجلی گراتے جائیں گے
“””اُن کا تصور و ذکر بخدا غم مٹا دیتا ہے تو اُن کو دیکھنا سننا کیسا سکون و قرار دے گا بیان سے باہر ہے”””

اُن کو سوچنا ذہن کی تکالیف مٹا دیتا ہے
اُن کو دیکھنا آنکھوں کو قرار دیتا ہے
اُن کو سننا کانوں کو راحت دیتا ہے
اُن کی یاد دل کو سکون دیتی ہے
اُن کے سوا ہمارا کچھ نہیں وہی ہمارے سب کچھ ہیں

صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم
سیدمہتاب_عالم# ✍️

Scroll to Top