بصیرتوں کا نور

عشقِ_الہی_مقصدِ_حیات 110

إن الله إذا أحب عبداً كشف له حقيقة الناس من حوله فالحمد لله الذي نطيعه بصفاء النوايا فيجازينا بنور البصيرة

جب اللہ رب العزت کسی سے محبت کرتا ہے تو بندے کے لیئے اس کے ارد گرد کے لوگوں کی حقیقت کھول دیتا ہے
تو تمام تعریفیں اس اللہ کے لیئے ہیں کہ ہم نے جس کی اطاعت صاف نیتوں سے کی تو اس نے ہمیں بصیرت کا نور عطاء فرمایا
دنیا کی حقیقت اور دنیا میں موجود لوگوں کی حقیقت کا آشکار ہونا اللہ ربّ العزت کی بڑی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے
یہ عطاء صاف دل والوں پر ہوتی ہے
یہی وجہ ہے اولیاء کرام کھانے پینے چلنے پھرنے شادی کرنے میں عام انسانوں جیسے ہوتے ہیں مگر دل کے لحاظ سے صاف ہوتے ہیں
ان کی بصیرتوں کا نور دل کی دنیا زیر و زبر کر دیتا ہے
وہ احوالِ ناس سے با خبر ہوتے ہیں تبھی ان کو جواسیس القلوب {دِلوں کے جاسوس} کہا گیا ہے
تبھی کہا گیا علماء کی محفل میں زبان سنبھال کر اور اولیاءِ کرام کی محفل دل سنبھال کر بیٹھیں
سیدمہتاب_عالم# ✍️

Scroll to Top