کھرا دیہاتی اور کھوٹے علماء

اسلامی_طرزِتربیت 142

تاریخ ابن عساکر میں ہے
ایک دیہاتی نے اپنے چچا کی بیٹی رباب سے شادی کا ارادہ کیا
چچا نے کثیر حق مہر کا مطالبہ کر دیا
دیہاتی نے بڑی بھاگ دوڑ کی مگر اسے کہیں سے اتنا مال نہ ملا جتنا اس کے چچا نے حق مہر میں طلب کیا تھا
تھک ہار کر وہ دیہاتی ایک مالدار مجوسی کے پاس گیا اور اپنا مدعی بیان کیا کہ میں نے چچا زاد سے شادی نہ کی تو مر جاؤں گا
مجوسی نے حق مہر ادا کر دیا
دیہاتی خوش ہوگیا اور پھر دیہاتی نے وہ کام کیا جو آج کے علماء سوء کو کرنا چاہے
{یعنی پوری پوری حق بیانی }

اس نے مجوسی کی شان میں قصیدہ پڑھا

كفاني المجوسيُّ مهرَ الرباب
فِدىً المجوسيِّ خالٍ وعٙمّ
وأشهدُ أنَّكَ رطب المشاش
وأنَّ أباكَ الجَوادُ الخِضٙمّ
وأنّكَ سيِّدُ أهلِ الجحيم
إذا ما ترديتَ فيمٙن ظلَم
تُجاوِرُ قارون في قعرها
وفِرعونَ والمُكتني بالحكٙم
آخری اشعار کا مفہوم دیکھیں
بے شک تو جہنمیوں کا سردار ہے
تو جہنم کی گہرائی میں قارون و فرعون اور ابو جہل کے ساتھ ہوگا
مجوسی کہنے لگا
میں نے حق مہر ادا کرنے میں تمہاری مدد کی پھر بھی تم نے مجھے جہنمی بنا دیا
دیہاتی کہنے لگا
° کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ میں نے تمہیں جہنم میں جہنمی سرداروں کے ساتھ شامل کیا ہے °
عام جہنمی نہیں قرار دیا بلکہ جہنمیوں کا سردار کہا ہے

آج کے علماء بھی کاش اس دیہاتی سے سبق لیتے کہ نا حق کو نا حق کہتے باطل کو باطل کہتے ہیں
مگر حکام بالا کی روٹی کھانے کے بعد ان کے سامنے حق بیان کرنا ناممکن ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top