کبھی باپ کو غور سے دیکھیں

اسلامی_طرزِتربیت 179

عورتوں میں سے وہ بیوی بڑی منحوس ہوتی ہے جو عید تہوار پر شوہر سے اپنے بننے سنورنے اور بچوں کے جوتے کپڑے کے لیئے ہزاروں روپے لے مگر شوہر کے لیئے کچھ نہ خریدے یا ہلکے کپڑے جوتے خریدے

شاید عورت اپنے شوہر کو زیادہ قیمتی کپڑے جوتے اس لیئے نہیں لینے دیتی کہ بن ٹھن کے دوسری بیوی کا انتظام نہ کر لے
مگر ہمارے دیسی سادہ پیارے سے معاشرے کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ شوہر بیوی بچوں کو مہنگے کپڑے پہنا
کر خوش ہو جاتا ہے
کبھی دیکھا نہیں کہ شوہر بیوی سے اچھے کپڑے پہننے پر بحث کرتا ہو کہ میرے کپڑے ایسے ایسے لاؤ وغیرہ وغیرہ
شوہر کے کپڑے جوتوں کی صفائی نفاست چمک دمک عورت کے با وفاء ہونے کی علامت ہوتی ہے
مرد کیسی باہمت مخلوق ہے کہ دن رات محنت کرتا ہے مگر نئے کپڑے اعلی کھانا پینا نہیں مانگتا جبکہ دولت و ثروت اسی کی ہوتی ہے
پھر بھی ہم نے کبھی کسی عورت کو مرد کی تعریف کرتے نہیں سنا
مرد چاہتا بھی نہیں کہ اس کی تعریف کی جائے عورت ہی چاہتی ہے کہ اسے کما کر کھلایا بھی جائے اور تعریفیں بھی کی جائیں
گویا مرد لوہے یا پتھر کا ہے جس کی نہ رضا ہے نہ جذبات ہیں
جو شوہر ظلم و زیادتی کرتے ہیں تعجب کی بات ہے وہ بھی عورت سے کم ہی خرچ کرتے ہیں

مرد کمائی کرتا ہے بیوی بچوں کا پیٹ بھرتا ہے ان کو سہولیات دیتا ہے زندگی گزار دیتا ہے پھر آخر میں اولاد کہتی ہے ہمارے باپ نے ہمارے لیئے کچھ نہیں کیا اور بیوی کہتی ہے کہ اس بندے کا مجھ پر احسان ہے ہی نہیں
خواتین کی مظلومیت پر آپ نے بے شمار مضامین پڑھے ہوں گے مگر مرد کی قدر کتنے پڑھے ہیں ؟
بیوی بچوں کے نذدیک مرد کمانے کی مشین ہے و بس`
آپ بیٹی ہیں یا بیٹا ہیں یا بیوی ہیں آپ سابقہ زندگی پر زور دار نظر دوڑائیں اور بتائیں آپ کے والد یا شوہر نے کبھی آپ کے کپڑوں سے مہنگے کپڑے پہنے ہیں ؟
جتنی سہولیات آپ استعمال کر رہے ہیں آپ کے والد یا شوہر وہ استعمال کر رہے ہیں ؟
حالانکہ پیسہ انہی کا ہے
تو قدر کریں
باپ کی قدر کریں
شوہر کی قدر کریں

✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top