ردِ_سائنسِ_جدیدہ 5
معیارِ ایمان یا کارِ شیطان
قبل از طوفانِ نوح صلی اللہ علیہ وسلم روئے زمین کی تقریبا ہر شے کا جسم بڑا تھا
انسان و حیوان اور ان عمریں حتی کہ درختوں کی ضخامت طویل و عریض تھی
پھر بدستور کمی ہوتی ہوگئی
حدیث مبارکہ میں ہے
أَعْمَارُ أُمَّتِي مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَى السَّبْعِينَ
میری امت کی عمریں ساتھ سے ستر کے درمیان ہیں
(ترمذی)
یعنی اکثر کے لحاظ سے یہ عمر ہے ورنہ کچھ اسی نوے حتی کہ سو سے بھی اوپر چلے جاتے ہیں
امام طیبی نے فرمایا
پہلی امتوں میں لوگوں کی عمریں ہزار سال تک پہنچ جاتی تھیں
علماء کرام نے فرمایا
اس امت کی کم عمریں ہونے میں ایک حکمت یہ ہے کہ گناہوں میں کم سے کم پڑیں گے
دنیا کے مسائل و مصائب سے تھوڑا واسطہ پڑے گا
حکایت
حضرت نوح علی نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام ایک بوڑھی عورت کے پاس سے گزرے جو اپنے بیٹے کی موت پر رو رہی تھی
دریافت فرمایا اس کی کتنی عمر تھی کہنے لگی 500 سو سال
فرمایا تم اس پر رو رہی ہو ایک امت ایسی بھی آئے گی جن کی عمریں ساتھ سے ستر سال کے درمیان ہوگی
کہنے لگی وہ امت گھر بار کیسے بنائے گی
حضرت نوح علی نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا
وہ بلند و بالا عمارتیں بنائے گی جو بادلوں کو چھوتی ہوں گی ( او کما قال)
اسی طرح اس امت کے قد پہلی امتوں کے قدوں سے کم ہیں
حدیث مبارکہ میں ہے
خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ وَطُولُهُ سِتُّونَ ذِرَاعًا فَلَمْ يَزَلْ الْخَلْقُ يَنْقُصُ حَتَّى الآنَ
الله رب العالمین نے آدم علی السلام کو ساٹھ گز طویل پیدا فرمایا
تب سے مخلوق اب تک کم ہوتی جا رہی ہے
(بخاری)
ابن حجر عسقلانی نے اس کی شرح میں فرمایا
ہر قرن (سو سال) بعد لوگوں کے قدوں میں کمی ہوتی گئی اور اس امت پر معاملہ رک گیا ہے
یعنی اس کے بعد کمی نہیں ہوگی
(فتح الباری)
ڈائنو سار وغیرہ کو اسی تناظر میں سوچیں تو عقدہ حل ہوجاتا ہے کہ اس وقت جب انسانوں کے قد بڑے تھے تو ان کے گرد گرد کی ہر شے بڑی ہی ہوگی حتی کہ جانور اور درخت وغیرہ
دنیا کے مختلف کونوں میں عظیم درختوں کے آثار ملتے ہیں
مرورِ زمانہ سے لکڑی سے بدل کر پتھریلی چٹان کا منظر پیش کرتے ہیں
اسی طرح ڈائنو سار وغیرہ کے ڈھانچے بھی قبل از طوفانِ نوح علیہ السلام کی باقیات ہیں
مگر ستیاناس ہو سائنس جدیدہ کا کہ جس نے ڈائنا سور کی کے فناء کی کہانیاں گھڑ لی ہیں
اور عظیم درختوں کی باقیات پر چپ ہو جاتے ہیں
ترس ان پر آتا ہے جو خدا کے بندے بننے کی بجائے سائنس کے بگھت بن جاتے ہیں
جو اسلامی عقیدے یا تاریخ سے جھٹلائے وہ سائنس عظیم نہیں راہِ جحیم ہے
ولہذا ہم کہتے ہیں سائنسِ جدیدہ معیارِ ایمان نہیں کارِ شیطان ہے
سیدمہتاب_عالم# ✍️
