وہ غم جس میں دائمی راحت ہے

تصوف_وصوفیاء 58

امام نفری نے فرمایا
القلب يتغير وقلب القلب لا يتغير والحزن قلب القلب
دل بدلتا ہے اور دل کا دل نہیں بدلتا اور غم دل کا دل ہوتا ہے

❗المواقف و المخاطبات ❗

یہ شان مومن کی ہے

مؤمن کا دل ہمیشہ غم میں مبتلاء رہتا ہے
غمِ روزگار
غمِ قبر و حشر
غمِ امت
غمِ عشقِ رسول
غمِ فراقِ وطنِ اصلی یعنی جنت سے دوری کا غم
غمِ مَحبتِ ربُ العزت
اور پھر غمِ خاتمہ کہ ایمان پر موت ہوگی یا نہیں

ایک بے چینی سی مومن کو رہتی ہے

ذکرِ الٰہی میں سکون و چین ہے مگر اس سے غمِ مَحبتِ ربُ العزت کم نہیں ہوتا

اس سے غمِ خاتمہ کا خاتمہ نہیں ہوتا

جو دنیا پر قانع و شاد رہا وہ منافق ہے

قرآن کریم نے ارشاد فرمایا
لَقَدْ خَلَقْنَا الإنْسَانَ فِي كَبَدٍ
بے شک ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا
تفسیر طبری میں ہے یعنی انسان مشقت سختی اور تھکاوٹ میں پیدا ہوا
تفسیر قرطبی میں ہے
مراد پیدائش سے موت تک سختیاں مثلاً ماں کے پیٹ میں ہونا پھر نال کٹنا پھر ختنہ ہونا پھر دانت نکلنا پھر دانت ٹوٹنا پھر غمِ روزگار پھر نزع کی سختیاں یہ سب مشقتیں مراد ہیں
اتنی تکالیف و مصائب میں غمِ خاتمہ سب سے بڑا غم ہے
تو مومن کیسے کس بناء پر سکون پا سکتا ہے؟

بس یہی مراد ہے امام نفری کی کہ دل تو بدلتا ہے مگر دل کا دل جو کہ غم ہے وہ نہیں بدلتا مومن کو ہمیشہ رنج و غم و ھم رہتا ہے
یہ غم تازہ رکھیں اسی میں دائمی راحت ہے

✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top