نکما طالبِ علم کون

طریقِ_علم_نجاتِ_دارین148

ابو داؤد الطیالسی فرماتے ہیں
ہم امام شعبہ کے دروازے پر تھے اتنے وہ باہر تشریف لائے اس وقت مسجد طلباء سے بھری ہوئی تھی مجھ پر سہارا لیا اور
فرمایا
اے سلیمان تمہارا کیا خیال ہے
یہ سب محدث بنیں گے ؟
میں نے کہا نہیں
فرمانے لگے سچ کہا
فرمایا ان میں سے پانچ ؟
میں نے کہا پانچ بھی نہیں ؟
فرمایا
ہاں پانچ بھی نہیں
پھر فرمایا
يَكْتُبُ أَحَدُهُمْ فِي صِغَرِهِ ثُمَّ إِذَا كَبِرَ تَرَكَهُ وَيَكْتُبُ أَحَدُهُمْ فِي صِغَرِهِ ثُمَّ إِذَا كَبِرَ يَشْتَغِلُ بِالْفَسَادِ
ان طلباء میں سے کوئی بچپن میں حدیث لکھتا ہے پھر جب بڑا ہوتا ہے تو چھوڑ دیتا ہے
کوئی حدیث لکھتا ہے جب بڑا ہوتا ہے تو فساد امور میں مبتلاء ہو جاتا ہے
❗ الجامع لأخلاق الراوي ج ١ ص ١١٣ ❗
سینکڑوں بچے مدارس و جامعات میں داخل ہوتے ہیں جن میں سے کچھ فارغ التحصیل ہوتے ہیں اور ان فارغ التحصیل ہونے والوں میں نہایت قلیل علم والے ہوتے ہیں
اکثر سند والے ہوتے ہیں

جامعات میں داخلے مقابلے کی وجہ سے کثیر ہوتے ہیں اور داخلوں کو باقی رکھنا اور فراغت تک لے جانا بھی افرادی قوت دکھانے کے لیئے ہوتا ہے اور اس دوڑ میں حقیقی عالمِ باعمل تیار کرنے سے چوک ہو جاتی ہے
حدیثِ مبارکہ میں ہے
إِنَّمَا النَّاسُ كَالإِبِلِ المِائَةِ لاَ تَكَادُ تَجِدُ فِيهَا رَاحِلَةً
لوگ سو اونٹوں کی طرح ہیں کہ تم ان میں سے کوئی ایک ہی سواری کے قابل پاؤ گے
❗ بخاری شریف ❗

جو دورِ طالب علمی میں پڑھائی میں خود غرض نہ ہو وہ آخر میں ناکام ہو جاتا ہے
طالبِ علمِ دین کے لیئے نقصان دینے والی اشیاء یہ ہیں
• محافل و مجالس میں شرکت کرنا
• مناظرے اور اختلافی موضوعات کے پیچھے ہٹنا
• کھیل کود کی طرف دل لگا رہنا
• موبائل کا زیادہ استعمال کرنا
• پیسہ کمانے کی طرف توجہ کرنا
• بے عملی کرنا
• سیاسی ابحاث و مصروفیات
• کھانے پینے کی خواہشات
• انتظامی معاملات میں دخل

اور تعجب والی بات ہے طلباء مذکورہ تمام اشیاء کرتے ہیں مگر مطالعہ نہیں کرتے
جس کام کے لیئے گھر بار چھوڑا ماں باپ بہن بھائی دوست احباب اور وطن چھوڑا وہ کام نہیں کرتے باقی سب کچھ کرتے ہیں
پھر وہ عالم نہیں بنتے بلکہ سات سال بعد مذہبی غنڈے بن جاتے ہیں جو صرف تحکم و دھونس سے عقیدے کی نشر و اشاعت کرنے کی کوشش میں دین سے عوام کو متنفر کرتے ہیں
امام ابن الجوزی فرماتے ہیں میں نے دورِ طالب علمی میں *اٹھارہ ہزار کتابیں* پڑھی ہیں
آج کے طالبِ علم اپنے گریبان میں جھانکیں
طلباء کتابوں سے یوں بھاگتے ہیں کتابیں پڑھنا گویا بدعت ہوگیا ہے
موبائل سے علم لینا
وٹس ایپ گروپس سے متکلمِ اسلام بننا
یوٹیوب چینل سے علم اخذ کرنا
اور پھر محض فتنوں بھرے موضوعات سے اختلافی مباحث سننا علمی پختگی نہیں جاہلانہ شدت بڑھاتے ہیں
یاد رکھیں
وہ طالبِ علم ہمیشہ نکما ہی رہتا ہے جو خود مطالعہ نہ کرے بلکہ صرف تقاریر سنتا ہو

محقق طالبِ علم وہی ہے جو خود پڑھے
کسی عالم کو سنیں اور پھر اصل کتابوں کو خود پڑھیں
جس میں اصل کتاب پڑھنے کی اہلیت نہیں اسے عوام میں مسائل بتانے کی اجازت بھی نہیں

بعض اوقات طالبِ علم تحقیق اٹھا لاتا ہے اور بڑی بڑی کتابوں کے حوالے لکھے ہوتے ہیں
اگر ان سے پوچھا جائے ان میں کون کون سی اصل کتاب آنکھوں سے دیکھی ہے از خود پڑھی ہے تو ساری تحقیق ہوا ہو جائے
شہرت کا مرض ہے یا مذہبی غنڈہ گردی پھر اپنی غیر یقینی تحقیق کو حرفِ آخر سمجھتے ہیں
لہذا مطالعہ کریں اور طویل عرصہ کریں پھر شاید عالم بن سکیں اور جب تک آپ کے علم کی گواہی علم والے نہ دیں عوام میں مسائل نہ بتائیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top