عجائباتِ_عالم 2
—– صوفیاء کرام سیر و سیاحت کیوں کرتے تھے —-
آپ جو کچھ آپ سامنے دیکھ رہے ہیں وہ ” بولیویا ” کے صحرائے ” سالار ڈی آئونی ” کا ایک حقیقی منظر ہے
جسے ” آسمان کا آئینہ ” بھی کہا جاتا ہے،
یہ ایک وسیع شفاف نمک کا میدان ہے
جو کہ 1000 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے
رنگ برنگی جھیلوں اور نمک کے ٹیلوں کے دلکش منظر پر مشتمل 10,000 کلومیٹر میدان
آپ کو نمک پر اپنے سامنے ستارے اور بادل نظر آتے ہیں کیونکہ آسمان کا عکس صاف نظر آتا ھے
یہ عکس جادوئی آئینے کی طرح نظر آتا ھے
یہ میدان اتنا شفاف ہے کہ آسمان کا ہر ہر منظر اس میں گویا چَھپ جاتا ہے
دن کو بادل اور رات کو ستاروں کا عکس کیسا منظر ہوتا ہوگا
سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ
زمین میں سیر کرو
عجائباتِ عالم دیکھ کر رب العالمین کی عظمت پر سبحان اللہ العظیم کے نعرے بلند کریں
صوفیاء کرام کا ایک نام سیاحین {سیر و سیاحت کرنے والے} بھی ہے
یہ نفوس قدسیہ محض خواہشِ نفس اور حسین مناظر سے آنکھیں ٹھنڈی کرنے کے لیئے سفر نہیں کرتے تھے
بلکہ ان کی سیر و سیاحت تین میں سے ایک کام کے لیئے ہوتی تھی
ایک
سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ
زمین میں سیر کرو پھر دیکھو جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوا
تباہ شدہ قوموں کا حال دیکھ کر عبرت پکڑیں
دوسری
تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ
یہ آخرت کا گھر ہم اُن کے لیے کرتے ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اور نہ فساد اور عاقبت پرہیزگاروں ہی کی ہے
صالحین کے مقامات و مزارات و نشانات کو دیکھا جائے اور پھر صالحین کے نقشِ قدم پر چلا جائے
تیسری
عجائباتِ دنیا و قدرتِ الٰہیہ کے مظاہر” عقولِ انسانی سے وراء مآثر دیکھ کر یقین و ایمان کی قوت بڑھائی جائے اور الله رب العالمین کے فرمان پر عمل کر کے قربِ حق حاصل کیا جائے
الَّذِیْنَ یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِهِمْ وَ یَتَفَكَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِۚ-رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًاۚ-سُبْحٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
جو کھڑے اور بیٹھے اور پہلوؤں کے بل لیٹے ہوئے اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں اے ہمارے رب تو نے یہ سب بیکار نہیں بنایا تو پاک ہے تو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے
ذکر کی دو اقسام میں طاقتور قسم فکر کرتے ہیں
جو انسان کو رب کے قریب کرتی ہے
اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں غور و فکر کر کے اپنے عجز اور رب العالمین کی قدرت پر یقین کرتا ہے اور قربِ الٰہی حاصل کرتا ہے
تو سیر کریں سیاحت کریں
مذکورہ تین اسباب میں کو مد نظر رکھیں اور آخرت کو ٹھیک کریں
سبحان اللہ العظیم وبحمدہ
✍️ #سیدمہتاب_عالم

