مرد بنیں جانور نہیں

اسلامی_طرزِ_تربیت 237

ابو بکر الوراق فرماتے ہیں
میری ایک بیٹی تھی جو دس سال تک بیماری میں مبتلاء رہی اور میں اس کی موت کی تمنا کرتا تھا
پھر وہ فوت ہوگئی
میں نے خواب میں دیکھا کہ قیامت کا دن ہے بچے اپنے اپنے والدین کے ہاتھ پکڑ کر جنت میں داخل کر رہے ہیں
میں نے اپنی بیٹی کو کہا مجھے بھی جنت میں داخل کر دو
وہ کہنے لگی

لا أنت كنت تتمنى موتي
نہیں کیونکہ آپ میری موت کی تمنا کرتے تھے
❗ تاریخ بغداد باب الالف ص ٢٦١ ❗
بیٹیاں مونسات غالیات عالیات ہوتی ہیں
بیٹوں پر خرچ کرنے میں ایک قسم کا لالچ ہوتا ہے کہ کمائی کھلائیں گے بڑھاپے کا سہارا بنیں گے مگر بیٹی پر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے خرچ کرنے کو دل کرتا ہے
اگر آپ کی بیٹیاں ہیں یا اولاد میں سے کوئی بھی ازمائش میں ہے تو آپ بوجھ نہ سمجھیں کیونکہ یہ چھوٹے چھوٹے بچے جنت کی کنجیاں ہیں
بچیوں کے دل نہایت نازک ہوتے ہیں
آپ کی بیوی بھی کسی بیٹی ہے
اس کے نازک دل کا لحاظ کرنا سنت بھی ہے اور مردانگی بھی ہے
جی ہاں مرد ہی اپنے سخت دل کو دبا کے عورت کے نازک دل کا لحاظ کرتا ہے
جانور تو صرف اپنا ہی سوچتا ہے
لہذا مرد بنیں جانور نہیں
اپنی بیوی بیٹی کے لیئے نرم دل بنیں
ہاں دیوثیت میں نہ جا گریں اور ہر طرح سہولیات دیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top