طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 27
شیخ صفی الدین ھندی 715 ھجری کو ان کا انتقال ہوا شافعی المذہب اور بہت مزاحیہ طبیعت فقیہ تھے
فرماتے ہیں کہ
ایک بار کتابوں کے بازار سے گزرا تو وہاں ایک نسخہ نظر سے گزرا °°° جس کی لکھائی میری لکھائی سے بھی بری تھی °°°
میں نے وہ نسخہ خرید لیا تاکہ ان دوستوں کو دکھا سکوں جو کہتے تھے کہ میری لکھائی سب سے زیادہ بری ہے
تو میں نے وہ نسخہ بہت زیادہ مہنگے دام خرید لیا
جب گھر لیکر آیا تو غور کرنے پر معلوم ہوا یہ تو میری اپنی لکھائی ہے
جن حضرات کی لکھائی کیڑے مکوڑے کی طرح ہوتی ہے ان کا ذہن بہت تیز چلتا ہے اتنا تیز کہ لکھنے میں ان کا ہاتھ ذہن کے مطابق چل نہیں پاتا
“ذہن کی تیزی کا ساتھ دینے کی کوشش میں ہاتھ کیڑے مکوڑے سے لکھ ڈالتے ہیں”
اور جن کی لکھائی بہترین ہوتی ہے ان کا ذہن انکے ہاتھ کے ساتھ ساتھ چلتا ہے یعنی ذہن قابو میں رہتا ہے
فنِ خطاطی میں مسلمانوں کی ہم پلہ کوئی قوم نہیں ہے
اندلس کے عظیم شاہکار , ایران کے پرانے رنگ اور عربوں کے خطوط اور ترکوں کے نئے رسم الخط اس پر دال ہیں
خط کا اچھا یا برا ہونا کوئی عیب نہیں ہے
بہت سے علماء کا خط عام سا تھا اور بہت سے علماء کا خط لاجواب تھا
اعلی حضرت امام اھل سنت کا خط بہت لا جواب تھا
اس کی وجہ وہی جو ہم نے اوپر بیان کر دی کہ یہ ذہن کے قابو ہونے یا نہ ہونے کی وجہ سے ہوتا ھے!
طلباءِ کرام کو اپنا خط بہتر کرنے کی طرف خاص توجہ دینی چاہئے
اب آپ بتائیں آپ کا ذہن اپکے قابو میں رہتا ہے یا بے قابو ہوتا ہے ؟؟؟
✍️ #سیدمہتاب_عالم
