المزاح_و_الظرافت 1
ظرفاءِ عرب کہتے ہیں کہ
عربی زبان نے پانچ جگہوں پر عورت پر ظلم کیا ہے
آپ بھی پڑھیں اور لطف اٹھائیں
(1) جب مرد زندہ ہو تو اس کو حیٌ کہتے ہیں
اور جب عورت زندہ ہو تو اس کو حیةٌ کہتے ہیں جس کا معنی ناگن ہوتا ہے
(2) جب مرد کوئی بات یا کام ٹھیک کر دے تو اس کو مصیب کہتے ہیں یعنی درست کرنے والا
اور جب عورت کوئی کام یا بات ٹھیک کہے تو اس کو مصیبةٌ کہتے ہیں اور مصیبت کا معنی تو آپ جانتے ہی ہیں
(3) جب مرد کو جج بنایا جائے تو اس کو قاضی کہتے ہیں یعنی فیصلہ کرنے والا
اور جب عورت کو جج بنایا جائے تو اس کو قاضیةٌ کہتے ہیں اور اس کا معنی کاٹ دینے والی مصیبت ہے
(4) جب مرد کو کسی کا ماتحت بنایا جائے تو اس کو نائب کہتے ہیں
اور جب عورت کو بنایا جائے تو نائبةٌ کہتے ہیں اور اس کا معنی بہت بڑی مصیبت ہے
(5)جب مرد کو کسی کام کی تمنا ہو اور وہ کر نہ پائے تو اس کو ھاوی کہتے ہیں یعنی چاہنے والا
اور جب عورت کو تمنا ہو اور وہ حاصل نہ کر پائے تو اس کو ھاویةٌ کہتے ہیں اور ھاویۃ جہنم کا ایک نام ہے
ویسے یہ بھی قابل غور بات ہے کہ ان پانچ جگہوں پر ظلم کیا گیا کہ حقیقت بیان کی گئی ہے
خواتین تسلی رکھیں کیونکہ اردو دانوں کی شاعری کا مرکز عورت ہے
اور مرد جب اکتا جائیں تو یہ نام پڑھ کر خود کو تسلی دے لیا کریں
✍️ #سیدمہتاب_عالم
