اسلامی_طرزِتربیت 214
یحییٰ بن خالد برمکی نے کہا
لا للكرام أرجى من نعم للّئام، لأنّ لا للكرام ربّما كانت عن غضب وإبّان سآمة يحسن بها العاقبة ونعم للّئام تصدر عن تصنّع وفساد نيّة وقبح مآل
عزت دار کا “نہ” کہنا کمینے کے “ہاں” کہنے سے زیادہ امید والا ہے کیونکہ عزت دار کا “نہ” کہا غصے کی وجہ سے اور ایسی تنگی کی وجہ سے ہوتا ہے جس کا انجام اچھا ہوتا ہے جبکہ کمینے کا “ہاں” کہنا بناوٹی اور نیت کے فساد و برے انجام کی وجہ سے ہوتا ہے
❗ المصون فی الادب لعسکری ❗
یعنی عزت دار بندہ کسی کو کچھ دینے سے انکار عارضی وجہ سے کرتا ہے مگر کمینہ ہامی بھر کے بھی مکر جاتا ہے
کسی دانا سے پوچھا گیا کہ وہ کونسا زخم ہے جو کبھی نہیں بھرتا
جواب دیا
حاجة الكريم إلى اللئيم ثم يرده بغير قضائها
عزت دار کسی کمینے کا محتاج ہو پھر وہ اس کی حاجت پوری کیئے بغیر لوٹا دے
پوچھا
اس سے شدید کیا ہے ؟
کہا
وقوف الشريف بباب الدنيء ثم لا يؤذن له
شریف النفس طبیعت کسی گھٹیا طبیعت کے دروازے پر کھڑا ہو پھر اسے اندر داخل ہونے کی اجازت نہ دی جائے
❗ المستطرف فی کل فن مستطرف ❗
ہم فیصل آباد فیضانِ مدینہ میں پڑھتے تھے
خامسہ درجہ تھا اور قربانی کی کھالوں کے سلسلے میں گھر گھر جا کے کھالیں دینے کی درخواست کر رہے تھے
ایک عالیشان کوٹھی کی ڈور بل بجائی تو ایک صاحب غصے میں دندناتے ہوئے باہر نکلے
ہم نے قربانی کی کھال دینے کی درخواست کی تو چڑھ دوڑے
تمہیں اور کوئی کام نہیں ہے ؟
یہ وہ
خوب سنائی میں نے اول اول کوشش کی برداشت کروں مگر اتنی دیر قابو نہیں رکھ سکا
میں نے کہا
ہم آپ کو مانگنے والے لگتے ہیں ؟
یہ دیکھیں ان کی شکلیں
کیا یہ لٹیرے ہیں ؟
میں سرگودھا سے ہوں
یہ ملتان سے وہ فلاں جگہ سے ہم تو آپ کے شہر میں مہمان ہیں اور آپ یہ سلوک کرتے ہیں اپنے مہمانوں کے ساتھ ؟
ان میں سے سے کوئی غریب گھر کا بھی نہیں ہے سب اپنے علاقے کے چوہدری ہیں پھر بھی آپ کی باتیں سن رہے ہیں
کیوں ؟
صرف دین کے لیئے اور آپ سنائے جا رہے ہیں
بس پھر وہ بیچارہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا
میرا یہ مطلب نہیں تھا وہ تھا وغیرہ وغیرہ
تعجب کی بات ہے اسی کے ساتھ والا دروازہ بجایا ایک صاحب باہر آئے تو ہم نے اپنا مدعی بیان کیا
کہتے آئیں بیٹھیں چائے پیئں
ہم نے کہا نہیں بس کھال دیجئے گا
کہتے ایسے نہیں جانے دوں گا
چائے پئیں ہم نے کہا وقت نہیں پھر انہوں نے کچھ پیسے پیش کیئے کہ آپ طالبِ علمِ دین ہیں چائے پی لیجے گا
معززین کا آپ کے دروازے پر آنا آپ کا کمال نہیں بلکہ آپ کے رب کی عطاء ہے
یہ دن پِھر بھی سکتے ہیں لہذا خیال کریں کسے کیسے لوٹا رہے ہیں
سیدہ طیبہ طاہرہ عابدہ زاہدہ عفیفہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کے پاس ایک سائل آیا اس نے کھانا طلب کیا تو خادمہ کو حکم دیا اسے دروازے پر ہی روٹی دے کے بھیج دو
کچھ دیر بعد ایک آدمی گھوڑے پر سوار آیا اس نے کھانا طلب کیا تو اسے اندر بٹھا کر دستر خوان پر کھانا عطاء فرمایا
پوچھا گیا کیا فرق ہے
دونوں نے کھانا طلب کیا آپ نے ایک کو دروازے پر دیا دوسرے کو دستر پر دیا
فرمایا
پہلا جسے دروازے پر دیا وہ مانگنے والا تھا اس کا کام ہی مانگنا تھا
جبکہ دوسرا معزز تھا مگر بھوکا تھا تو اسے دستر خوان پر کھانا دیا
آپ سے کوئی سوال کرے تو اس کی حیثیت دیکھ کر فیصلہ کیا کریں کیونکہ عزت داروں کی رعایت کا حکم دیا گیا ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
