سترہ احمد بن حنبل اور سترہ یحییٰ بن معین

المزاح_و_الظرافت 71

محمد بن عمر الرازی سمرقند کی ایک مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ عالمانہ وضع قطع رکھنے والا ایک آدمی محمد بن عمر الرازی کی کتاب کی تشریح کر رہا تھا اور غلط تشریح کر رہا تھا
الرازی نے اسے بتایا کہ یہ تشریح غلط ہے
وہ آدمی ان کو پہچانتا نہیں تھا غصے سے کہنے لگا آپ مجھ سے مناظرہ کر لیں
محمد بن عمر الرازی تیار ہو گئے جب مناظرہ شروع ہونے لگا تو انہوں نے فرمایا پہلے آپ اپنا تعارف کروا دیں
وہ شخص ڈھٹائی سے اپنا تعارف یوں کروانے لگا
میں محمد بن عمر الرازی اس کتاب کا مصنف ہوں
علمی چوری بڑی بُری شے ہے اور اُس پر سینہ زوری سب سے بری ہے
ہمارے ہاں بھی کثیر ایسا ہوتا ہے ہمارے نام حذف کر کے مزے سے اپنا نام لکھ کر آگے پھیلاتے ہیں
کم عقلوں کو اتنا معلوم نہیں کہ یہ حرام ہے
اور اس طرح کر لینے سے کونسا تیر مار رہے ہیں ؟
چور جتنی عقل چوری کرنے میں لگاتا ہے اتنی عقل درست کام میں لگائے تو بہت کچھ کمائے
مگر چوری شاید ایک نشہ ہے اور علمی چوری بدترین نشہ ہے
امام احمد بن حنبل اور یحییٰ بن معین ایک مسجد میں داخل ہوئے تو کوئی مقرر ایک موضوع روایت بیان کر رہا تھا اور کہ رہا تھا
مجھے احمد بن حنبل اور یحییٰ بن معین نے یہ حدیث سنائی ہے
امام احمد بن حنبل یحییٰ بن معین کو دیکھنے لگے اور یحییٰ بن معین امام احمد بن حنبل کو دیکھنے لگے کہ یہ کب ہوا
جب وہ فارغ ہوا تو یہ دونوں امام اس کے پاس گئے اور فرمانے لگے کہ روایت تمہیں کس نے بیان کی ہے ؟
کہنے لگا احمد بن حنبل اور یحییٰ بن معین نے
امام یحییٰ بن معین نے فرمایا
یہ احمد بن حنبل ہیں اور میں یحیی بن معین ہوں
ہم نے تو تمہیں کبھی یہ روایت بیان نہیں کی
وہ ڈھیٹ شرمندہ نہیں ہوا بلکہ کہنے لگا
میں ہمیشہ سنتا رہا کہ یحییٰ بن معین میں حماقت ہے آج یقین بھی ہو گیا ہے
امام یحییٰ بن معین نے فرمایا
وہ کیسے ؟
کہنے لگا
تم کیا سمجھتے ہو دنیا میں صرف تم یحییٰ بن معین اور احمد بن حنبل ہو ؟
میں نے سترہ یحییٰ بن معین اور سترہ احمد بن حنبل سے روایت سنی ہے
امام احمد بن حنبل نے اپنی آستین اپنے چہرے پر رکھ لی اور وہ شاطر طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ اٹھ کے چلا گیا
ایسے ایسے شاطر دنیا میں موجود ہیں جو آپ کی شخصیت تک چرا لیتے ہیں اور پھر آپ کا ہی مذاق اڑاتے ہیں
یہاں علمی چور بھی ہیں اور مال کے چور بھی ہیں
دونوں سے محتاط رہا کریں
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top