تاریخِ_اسلامی 84
ترک رمضان المبارک کے مقدس مہینے کو سلطان الشھور یعنی مہینوں کا سلطان کہتے تھے
جیسے ہی رمضان المبارک آتا مساجد قمقموں اور فانوسوں سے سجا دی جاتی تھیں
اور مختلف رنگ کے گتوں پر دعائیں رمضان کے فضائل شبِ قدر کی برکات اور زکوٰۃ کی ترغیب لکھتے تھے
ان گتوں کو المحیا کہتے تھے
کہیں لکھا ہوتا
صوموا تصحوا
روزے رکھو صحت مند ہو جاؤ گے
کہیں لکھا ہوتا
اھلا بک یا رمضان
اے مبارک رمضان خوش آمدید
کہیں لکھا ہوتا
سلطان الشھور
مہینوں کا بادشاہ
کہیں لکھا ہوتا
الزکوۃ تزید المال
زکوۃ نکالنا مال بڑھاتا ہے
اور رمضان کے آخری عشرے میں لکھتے تھے
لا الہ الا الله
کسی جگہ لکھتے تھے
الشفاعة یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ کی شفاعت کے طلب گار ہیں
یہ روایت 1616 میں سلطان احمد کے دور سے شروع ہوئی اور آج تک قائم ہے بلکہ ترکوں سے ہی بر صغیر اور دوسرے اسلامی ممالک میں پھیل گئی
بچپن میں ہم نے بھی دیکھا رمضان المبارک آتے ہی ایک چہل پہل سے شروع ہو جاتی تھی
مساجد کی سجاوٹ رنگ و روغن لائٹنگ وغیرہ کا کافی وافی اہتمام ہوتا تھا
مگر اب تو بس
دوڑ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تو
اگرچہ اب بھی جس کے دل میں ایمان راسخ ہے وہ رمضان المبارک کا انتظار یوں کرتا ہے جیسے ماں بچھڑے بچے کا انتظار کرتی ہے
سیدمہتاب_عالم# ✍️
