دنیا سے بے رغبتی اختیار کر کے اچھا کھانا پینا کریں

تصوف_وصوفیاء 70

ابو بکر البرقانی کہتے ہیں میں نے سیدی ابو الحسین سمعون کو کہا
شیخ آپ لوگوں کو زہد اور ترکِ دنیا کی طرف بلاتے ہیں اور خود بہترین کپڑے اور اچھا کھانا کھاتے ہیں
ایسے کیسے ؟
فرمانے لگے

كل ما يصلحك لله فافعله إذا صلح حالك مع الله بلبس لين الثياب وأكل طيب الطعام فلا يضرك
ہر وہ شے جو تجھے اللہ کے لیئے ٹھیک کر دے وہ کر گزرو
جب تیرا حال اللہ کے ساتھ ٹھیک ہوگا تو نرم لباس پہننا اور عمدہ کھانے کھانا تجھے نقصان نہیں دے گا
❗ حسن التنبه لما ورد فى التشبة ❗
جنابِ غوثِ پاک رحمتہ اللہ علیہ تدریس کرتے وقت ایسا قیمتی لباس پہنتے تھے کہ اس وقت کے بادشاہ بھی ویسا نہیں پہنتے تھے تاکہ لوگ دین داروں کو ہلکا نہ سمجھیں
ایک محدث دورانِ سبق بادشاہوں والا لباس پہنتے اور تنہائی میں ٹاٹ کا پیوند شدہ لباس پہن کر عبادت کرتے تھے اور کہتے اے مولا وہ دنیا داروں کے لیئے تھا یہ تیرے لیئے ہے
یعنی اُس کی بارگاہ میں عاجزی و انکساری کرتے ہوئے حاضری دینی چاہیئے
محدثِ اعظم پاکستان مولا سردار احمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے تھے
طالبِ علمِ دین کو جوتا اتنا قیمتی پہننا چاہیے کہ دنیا دار اس کے جوتے کو ہی دیکھتا رہے
سیدی سفیان ثوری نے فرمایا
لولا هذه الدنانير لتمندل بنا هؤلاء الملوك
اگر یہ درہم و دینار نہ ہوتے تو یہ بادشاہ ہمیں ہاتھ کا رومال بنا لیتے
❗ حلية الأولياء ❗
الغرض حسنِ نیت سے اچھا کھانا پہننا استعمال کرنا تقوی کے خلاف نہیں ہے مگر دل میں دنیا سے اتنی بے رغبتی ہو کہ سونا و مٹی برابر ہو ورنہ دنیا سے بے رغبتی کا دعویٰ محض کذب و باطل ہے
سیدی عبد اللہ بن مبارک کا کچھ سامان کسی نے چوری کر لیا تو انہوں نے چور کو معاف کر دیا کہ میری وجہ سے کسی مسلمان کی پکڑ نہ ہو
یہ معنی ہے کہ دنیا صرف استعمال کے لیے ہو اس میں رغبت نہ ہو

❗ حکایت ❗
ایک الله والے نے اپنے بیٹے کو سونے کے سکے دیئے اور کہا جاؤ کمائی کر لاؤ
کچھ عرصے بعد بیٹا گھر حاضر ہوا باپ نے کہا مال کہاں ہے ؟
بیٹا گھر سے باہر لایا اور تاحدِ نگاہ اونٹوں کی قطار تھی
کہنے لگا
یہ سب میں نے کمایا ہے ؟
باپ اسے ایک طرف لے گیا اور پھر استنجاء کیا
جس ڈھیلے سے استنجاء کیا وہ زمین پر پھینکا پتھر جہاں جہاں لگتا گیا وہ چیز سونے کی بنتی گئی
فرمایا
جو مال تم کما کے لائے ہو وہ تو ہمارے پیشاب و پاخانے میں ہے
جاؤ مال کما کے لاؤ
یعنی دین و روحانیت کما کے لاؤ
دنیا سے بے رغبتی اسی کا نام ہے کہ خزانے بھرے ہوں ہر شے ہاتھ میں ہو مگر بھوکا رہا جائے
گرم و نرم بستر موجود ہو اور قیام اللیل کیا جائے
کبھی مال کی خود حاجت ہو مگر ایثار کر دیا جائے
ایسا نہ ہو کہ حسنِ نیت سے کھانا پینا کرتا جائے مگر حسنِ نیت سے صدقہ و خیرات کرتے وقت دل تنگ ہوتا ہو

✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top