تصوف_و_صوفیاء 87
سیدی ابن عطاء الله السکندری فرماتے ہیں
النُّورُ جُنْدُ الْقَلْبِ كَمَا أَنَّ الظُّلْمَةَ جُنْدُ النَّفْسِ فَإِذَا أَرَادَ اللهُ أَنْ يَنْصَرَ عَبْدَهُ أَمَدَّهُ بِجُنُودِ الأَنْوَارِ وَقَطَعَ عَنْهُ مَدَدَ الظُّلَمِ وَالأَغْيَارِ
نور دل کا لشکر ہے اسی طرح ظلمت نفس کا لشکر ہے
تو جب الله رب العزت بندے کی مدد کرنا چاہتا ہے تو انوار کے سپاہیوں سے مدد فرماتا ہے اور اس سے ظمتوں اور غیروں کے کی مدد دور فرما دیتا ہے
ایک مرید نے اپنے مرشد سے پوچھا
نور کی کیا علامات ہیں؟
فرمایا
أن ترى الدنيا صغيرة وأن يلين قلبك للخلق وأن تستوحش من المعصية كما يستوحش الطير من القفص
تم دنیا کو حقیر سمجھو
تمہارا دل مخلوق کے لیئے نرم ہو جائے
تم گناہوں سے یوں وحشت محسوس کرو جیسے پرندہ پنجرے سے وحشت محسوس کرتا ہے
بڑے نفیس نکات ہیں
• مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں
الدنيا جيفة و طالبها كلاب
دنیا ایک مردار ہے اس کے طالب کتے ہیں
مومن کامل کی نگاہ میں دنیا اتنی حقیر ہوتی ہے
• دل مخلوق کے لیئے نرم ہو
نیک و بد مومن و کافر سب پر حالتِ رحم میں رحم و سخاء کرنا دل کی نرمی ہے
• گناہ دل پر نفس کے لشکری لاتے ہیں اس وجہ سے نور کے سپاہیوں سے ناطہ ٹوٹ سا جاتا ہے اسی لیئے نوری دل گناہوں سے یوں وحشت پاتا ہے جیسے پرندہ پنجرے سے وحشت محسوس کرتا ہے
دل میں نور کیسے لائیں؟
° کثرت سے قرآن کریم کی تلاوت دل کو روشن کرتی ہے
مؤمن کے آگے پیچھے دائیں بائیں اوپر نیچے نور ہی نور ہو جاتا ہے
° اندھیرے میں نمازوں کے لیئے جانا دل میں نور بڑھاتا ہے
° تہجد کی پابندی دل کو منور کرتی ہے
° دائمی بھوک دل کور *نورٌ علی نور* کرتی ہے
_جب دل روشن ہو جاتا ہے تو خواب سچے اور قیاس درست ہونا شروع ہو جاتے ہیں_
✍️ #سیدمہتاب_عالم
