لطائفِ_علمیہ 149
میں تیری معیت کا نہ مدعی نہ متقاضی میں تو تیری بلندی کے راستے کا پھول ہوں کہ جب تو تھک جائے تو مجھے دیکھ کر تازہ دم ہو جائے
میری پنکھڑیاں تیری رہگزر کو سجا دیں گی
میری مہک تیرے راستوں کو معطر کر دے گی
میں تیری معیت و وصل کا مدعی نہیں ہوں میں تو صرف تیرا حوصلہ ہوں
بس تجھ سے اتنا تعلق ہے کہ تو مجھے سوچ کر خوش ہوجائے
مجھے دیکھ کر شاد ہو جائے
میں تیری رہگزر کا پھول ہوں جو تیرے گزرنے کے بعد مرجھا جائے گا
✍️ #سیدمہتاب_عالم
