عشقِ_الہی_مقصدِ_حیات 52
مولیٰ تیرے عفو و کرم ہوں میرے گواہ صفائی کے
ورنہ رضؔا سے چور پہ تیری ڈگری تو اقبالی ہے
اللہ اللہ
اعلی حضرت کا یہ شعر اتنی گہرائیاں , پہنائیاں لئیے ہوئے ہے کہ بس
میں نے اپنوں کے نہیں غیروں کے منہ اس شعر کی وجہ سے اعلی حضرت کی تعریف سنی ہے
مطلب ہے کہ اے میرے مالک
مجھ گناہ گار کی صفائی کے گواہ دو ہیں
ایک تیرا عفو دوسرا تیرا کرم
ویسے تو میں اپنے ہر گناہ کا اقرار کرتا ہوں
مگر جب یہ دو عظیم گواہ میری صفائی دیں گے تو میں بچ جاؤں گا
اعلی حضرت مجدد اعظم ہیں مجتہد فی المسائل ہیں قطب الارشاد ہیں
اللہ تعالیٰ ان کے صدقے میری اور میری آل و اولاد کی بخشش کرے
یہ بات صرف سمجھانے کو ہے کہ
یہ شعر , یہ عرض , یہ دعا اتنی باکمال ہے کہ اگر اور کچھ نہ ہوتا صرف یہ شعر ہوتا تو اللہ تعالیٰ کی رحمت انکو ڈھانپ لیتی
دوسری جگہ عرض کرتے ہیں
تجھ سا سِیاہ کار کون اُن سا شفیع ہے کہاں
پھر وہ تجھی کو بُھول جائیں دِل یہ تِرا گمان ہے
اے رضا تجھ سا گناہ کوئی نہیں اور اُن صلی اللہ علیہ وسلم جیسا شفاعت کرنے والا کوئی نہیں تو اُن کی شفاعت کا تقاضا یہی ہے کہ سب سے بڑا شفیع سب سے بڑے گناہ گار کو پہلے بخشوائے
ایک جگہ عرض کرتے ہیں
ہم بھکاری وہ کریم اُن کا خدا اُن سے فُزُوں
اور نا کہنا نہیں عادت رسول اللہ کی
ہم تو بھیک مانگنے والے ہیں اور ہمارے آقا کریم ہیں
اور ان رب سب سے بڑا کریم ہے بس اسی وجہ سے ہمارے آقا کبھی کسی سائل کو نا نہیں فرماتے
رب کی رحمت سے بخشش کے پروانے عطاء فرماتے ہیں
سیدمہتاب_عالم# ✍️
