عشقِ_سیدِ_عالَم 32
بندہِ مومن دو میں سے ایک آگ میں ضرور جلتا ھے
عشق کی آگ یا جہنم کی آگ
جو دنیا میں نارِ عشق میں جل گیا وہ جنابِ رب العزت کی رحمت میں شاد و آباد رہتا ھے
نارِ عشق اندر کے ہر مرض کو جلا کر راکھ کر دیتی ھے
اندر حیوانیت”نفسانیت”انانیت”حبِ دنیا”لمبی امیدیں”حرص و طمع سب کچھ جلا کر خالص بندہ بنا دیتی ھے
جب جل جاتا ھے تو صبغۃ اللہ یعنی اس پہ اللہ کا رنگ چڑھ جاتا ھے
صوفیاء کا فرمان ھے
العشق نار تحرق ما سوی الله
عشق ایسی آگ ھے جو ما سوی اللہ کو جلا دیتی ھے
جب عشق کی آگ خوب بھڑکتی ھے بندہِ مومن اسکو برداشت کرتا ھے
تب وہی نار نُور بن جاتی ھے وہی آگ مومن کو سکون بخشتی ھے
حدیث پاک میں ھے
جب مومن پل صراط سے گزرے گا تو جہنم کہے گا
جز یا مومن فان نورک تطفی ناری
اے بندہِ خدا جلدی گزر کیونکہ تیرے نور نے میری آگ کو بجھا دیا ھے
اللہ اللہ
یہ عشق ایسی آگ ھے جو جہنم کی آگ کو بجھا دے
امام عشق و محبت امام احمد رضا خان بریلوی فرماتے ہیں
اے عِشق تیرے صدقے جلنے سے چُھٹے سَسْتے
جو آگ بُجھا دے گی وہ آگ لگائی ھے
یعنی اے عشق تجھ پہ قربان تو نے تو وہ شعلہ بھڑکا دیا میرے دل میں جو جہنم کے شعلے بجھا دے گا
یہ عشق پہلے پہل سب کچھ جلا دیتا ھے جب بندہ صبر کرے اور شکر کرے کہ مجھے چُنا گیا تب اِس عشق کے کمالات شروع ہوتے ہیں
پھر یہ ابدی نعمتوں سے مالا مال کر دیتا ھے
جب لوہے کو آگ سے عشق ہوتا ہے تو لوہا آگ کے رنگ میں رنگا جاتا ہے
لوہا جب اپنا آپ مٹا دیتا ہے تو آگ بن جاتا ہے
پھر لوہا آگ والا کام کرتا ہے
بندہ وہی عاشقِ رسول کہلائے گا جو سنتوں میں ایسے رچ بس جائے بقول شاعر
فناء اِتنا تو جاؤں میں تیری ذاتِ عالی میں
جو مجھ کو دیکھ لے اس کو تیرا دیدار ہو جائے
اللہ جل جلالہ ہمیں اپنا اور اپنے محبوب صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا عشقِ کامل عطاء فرمائے
سیدمہتاب_عالم# ✍️
