ردِالحادو_لادینیت 11
مردوں کی برابری کی دعویدار
عورتوں کی حقوق کی علمبردار
ایک عورت درکار ہے جو یہ سیمنٹ کے توڑے اٹھائے اور مزدوری کمائے
اور پھر مرد و عورت کی برابری کے نعرے لگائے
صرف کھوکھلے نعرے لگانے گندے اشتہار اٹھانے سے حقوقِ نسواں کی حفاظت ممکن نہیں بلکہ اب خواتین کو میدان میں آکر مردوں کو جواب دینا ہوگا
عورت کا مجبور ہو کر کام کاج معیوب نہیں اس میں بھی شریعت ریاست پر لازم کرتی ہے کہ مجبور و لاچار عورت کی تمام ضروریات پوری کرے
اسی وجہ سے سیدی صدیق اکبر اور پھر بعد میں سیدی عمر فاروق اعظم رضہ الله عنھما نابینا بوڑھی عورت کے کام کاج کرتے تھے حتی کہ گھر کی صفائی وغیرہ کرتے تھے
مگر اپنے شوق پورے کرنے اور فیشن کرنے یا خاندان کی عورتوں سے مقابلے کے چکر میں ملازمت کرنا ایک ذہنی و فکری خناس ہے جو خاندانی عورت کے دماغ میں نہیں ہوتا
خاندانی عورت تو ملکہ بن کر بیٹھ جاتی ہے میری فلاں خواہش پوری کریں فلاں تمنا پوری کریں
اور ہمارے ہاں گھر کے سربراہ خواہ باپ ہوں یا بھائی ان خواتین کی خواہشات پوری کرتے بھی ہیں
جب گھر میں رہ کر ساری خواہشات پوری ہو رہی ہیں تو کمائی کے لیئے نکلنا اور پھر ایسا نکلنا کہ غیرت و حیاء و ایمان سے نکل جانا کمینگی ہے
اگر پھر بھی ان فکری طوائفات کو مَردوں کی برابری کرنی ہے تو مَردوں کے برابر کام کریں
مثلا یہ توڑے اٹھانے ہوں گے
سر گنجے کروانے ہوں گے
بجلی کے کھمبوں پر چڑھ کر پیسے کمانے ہوں گے
گندے نالوں سے غلاظتوں کے پلندے ہٹانے ہوں گے
نہ کہ صرف وہ کام کریں جس میں بن ٹھن کر غیر مَردوں کے ہوس بھری نگاہوں کی راحت کا سامان بننے کا کام ہو
وزن والے , گندہ مندہ رہنے والے کام کریں
اگر یہ کام نہیں کر سکتی تو ڈھونگ بند کر دیں
ملک کے امن امان کو خراب نہ کریں
اور پاکیزہ ملک کو طوائف خانہ نہ بنائیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم
