آلِ_رسول_محبوبِ_رسول 45
علماء فرماتے ہیں
نسب کی عظمت تین چیزوں پر منتھی ہوتی ہے
{1} الانتهاء إلى شجرة رسول الله صلى الله عليه وسلم فلا يعادله شيء
حضور سیدِ عالم صلی الله علیہ وسلم تک نسب کی انتہاء ہوتی ہے تو اس کے برابر کچھ نہیں ہے
فتاوی رملی میں امام مالک کا فرمان منقول ہے
لا أُفَضِّلُ عَلَى بَضْعَةٍ مِنْ النَّبِيِّ ﷺ أَحَدًا
میں نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے جسم کے حصے پر کسی کو فضیلت نہیں دیتا
❗ ج ٤ ص ٣٣٣ ❗
امام اجل مجتہدِ مطلق احمد بن حنبل فرماتے ہیں
يا بني علي بن أبي طالب من أهل بيتٍ لا يقاس بهم أحد
میرے بیٹے علی ابن ابی طالب اھلِ بیت میں سے ہیں اھلِ بیت کے ساتھ کسی کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا
❗ مناقب احمد لابن الجوزی ص ٢١٩ / الروايتين والوجهين للقاضى أبى يعلى ج ٢ ص ٩٣ ❗
حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں
نحن أهل بيت لا يقاس بنا أحد
ہم اھلِ بیت کا موازنہ کسی سے نہیں کیا جا سکتا
❗ ذخائر العقبی ص ١٧ ❗
تاجدارِ گولڑہ پیر مہر علی شاہ صاحب نے اچھوتا استدلال فرما کے ثابت کیا کہ نسبت افضلیت کا معیار ہے
آیت مبارکہ میں ہے
قُلْ اِنْ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ وَلَدٌ ﳓ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِیْنَ
تم فرما دو اگر رحمن کا کوئی بیٹا ہوتا تو سب سے پہلے میں اس کی عبادت کرتا
یہ آیت مبارکہ تعلیق المحال بالمحال کے قبیل سے ہے
اس آیت میں ناممکن کام کو ناممکن کام سے معلق کیا ہے
اور واضح فرمایا کہ کہ دو اگر اس کا بیٹا ہوتا تو میں اس کی عبادت کرتا
کیوں ؟
نسب کی وجہ سے
جبکہ وہ حسب و نسب سے پاک ہے
معلوم ہوا کہ نسب کی انتہاء جہاں ہوتی ہے وہ نسب انتہاء والی عزت و حرمت کرامت و عظمت رکھتا ہے
{2} الانتماء إلى العلماء فإنهم ورثة الأنبياء صلوات الله وسلامه عليهم
علماء تک نسبت جو کہ انبیاء کرام علیہم السلام کے وارث ہیں
علماء کے علم اور اُن کی حضور ملی وراثت کی برکتیں اولاد کو کثیر ملتی ہیں
اور ساداتِ کرام کے آباء و اجداد میں تو اتنی کثرت سے علماء آئے کہ کسی اور خاندان سے اتنے نہیں آئے
{3} الانتماء إلى أهل الصلاح المشهور والتقوى قال الله تعالى ﴿ وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا
نیکوں اور متقیوں تک نسبت قائم ہونا
الله رب العزت نے ان دونوں بچوں کے بارے فرمایا
اُن کا باپ نیک تھا
تو اس کی نیکی کا اثر دو بچوں تک ایسا آیا کہ الله رب العزت کے دو پیارے نبیوں نے ان یتیموں کی دیوار تعمیر فرمائی
علماء نے فرمایا کہ وہ نیک باپ چالیس پیڑھی اوپر تھا جس کا اثر نیچے تک آیا
ساداتِ کرام کے آباء و اجداد میں اولیاء کرام غوث و قطب شمار کریں تو ناممکن سا لگتا ہے
کیونکہ اتنی کثرت سے اولیاء کرام اِن کے اوپر ہیں
پھر ان کے دادا مولا علی کرم الله وجہہ الکریم ہیں
پھر اِن کی دادی سیدہ فاطمہ ہیں
پھر اِن کے نانا رحمتِ کونین صلی الله علیہ وسلم ہیں
تو سادات کرام کی عظمت و رفعت کون جان سکتا ہے
وہ جن کی رحمت کروڑوں جہانوں پر پھیلی ہوئی ہے اُن کی رحمت اپنی اولاد پر اثر نہیں کرے گی ؟
أُولَئِكَ آبَائِي فَجِئْنِي بِمِثْلِهِم
إِذَاجَمَعَتْنَا يَا جَرِيرُ الْمَجَامِعُ
جب ہمیں جمع کرنے والے جمع کریں تو یہ میرے آباء و اجداد ہیں تو ان کی مثل کے لا کے دکھا
✍️ #سیدمہتاب_عالم
