اسلامی_طرزِ_تربیت 234
الحسن بن أمد بن عبد الله بن البنّاء المقرئ حافظ الحدیث تھے
یہ علومِ قرآن کے ماہر اور تجوید و حدیث و لغت کے امام تھے
فرماتے ہیں میں نے پانچ سے کتابیں لکھی ہیں
انہوں نے لوگوں سے پوچھا
خطیب بغدادی نے اپنی تاریخ میں مجھے جھوٹے راویوں میں ذکر کیا ہے کہ سچے راویوں میں ذکر کیا ہے ؟
بتایا گیا
خطیب بغدادی نے آپ کا ذکر کیا ہی نہیں ہے
کہنے لگے
ليته ذكرني ولو مع الكذابين
کاش وہ میرا ذکر کرتے خواہ جھوٹے راویوں میں کر دیتے
❗ اِنباء الرواۃ علی اَنباء النحاۃ ص ٣١١ ❗
شاید خطیب بغدادی کی جلالتِ علمی کی وجہ سے فرمایا کہ کاش وہ اپنی عظیم الشان کتاب میں میرا ذکر تو کرتے
بقول شاعر
ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے
آئے تو سہی بر سر الزام ہی آئے
مگر کچھ لوگ جان بوجھ کر کسی مشہور ہستی کے منہ سے اپنا نام نکلوا کر مشہور ہونا چاہتے ہیں
ان کی حالت یہ شعر ہے
ہم طالبِ شہرت ہیں ہمیں ننگ سے کیا کام
بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا
عربی کے مشہور شاعر متنبی کو کسی نے کہا
فلاں بندہ تمہاری ہجو ( برائی بیان ) کر رہا تھا
متنبی نے کہا
یہ چور چاہتا ہے کہ میں اس کے خلاف شعر لکھوں اور اسے ہمیشہ کے لیئے مشہور کر دوں
پھر شعر پڑھا
وتأبى النَّفسُ أنْ تهجُو لَئيماً
فبعضُ النّاسِ يَرفَـعُها الهِـجاءُ
میرا نفس کسی کمینے کی ہجو کرنے سے روکتا ہے کیونکہ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ ہجو ان کو مشہور کر دیتی ہے
فی زمانہ تو یہ آنکھوں دیکھی باتیں ہیں
کوئی ایک احمق غلطی کر بیٹھتا ہے لوگ اس کے خلاف میمز بنا کے یا رد کر کر کے اسے مشہور کر دیتے ہیں
جتنا احمق وہ ہوتا ہے اس سے زیادہ احمق وہ عقلمند ہوتے ہیں جو اس کو مشہور کر دیتے ہیں
عقلمند وہ ہے جو دشمن کا ذکر ہی نہ کرے
اس میں دو فائدے ہیں
ایک تو غیبت و بہتان سے بچت ہو جاتی ہیں
دوسرا دشمن کو اس قابل نہیں سمجھا جاتا کہ اس کا نام اپنے لبوں پر ذکر کیا جائے
ہر زمانے کا ایک فتنہ ہوتا ہے اور ہمارے زمانے کا فتنہ شہرت پسندی ہے
مرد اس شہرت کے لیئے دیوث اور عورتیں اس کے لیئے طوائفات بن گئی ہیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم
