اسلامی_طرزِ_تربیت 240
حضور سیدِ عالم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا
لَا يَفْرَكْ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَةً إِنْ كَرِهَ مِنْهَا خُلُقًا رَضِيَ مِنْهَا آخَرَ
مؤمن مومنہ سے بغض نہیں رکھتا اگر اس کی ایک عادت ناپسند ہو تو دوسری سف راضی ہو جاتا ہے
❗ مسلم شریف ❗
مؤمن کی شان نہیں کہ بغض و عناد پال لے اگر شوہر کو بیوی کی ایک عادت اچھی نہیں لگتی تو اس کی اچھی عادات پر نظر رکھے
ایسا نہیں ہوتا کہ بیوی میں ہر عادت ہی بری ہو
ایک عادت بری ہے تو بے شمار اچھی بھی ہوتی ہیں
اور پھر بیوی کی عادات پر قاضی بن کے فیصلہ کرنے کی بجائے اپنی بری عادتوں پر بھی غور کرے
ہمیشہ عورت ہی صبر کرے ؟
ایک عورت سے کھانے میں نمک تیز ہوگیا شوہر غصے والا تھا
غصہ کرنے پہلے سوچنے لگا کہ آج نمک تیز ہو گیا تو کوئی بات نہیں ہے
*موت کے بعد الله رب العالمین نے اس کی بخشش فرما دی کہ تم نے میری بندی پر غصہ نہیں کیا آج میں تم پر جلال نہیں فرماتا*
جاؤ تمہاری بخشش کر دی ہے
شوہر دو چیزیں کرتا ہے آٹھ یا دس گھنٹے کام پھر کام نہیں کرتا مگر بیوی بچوں کا محافظ ہوتا ہے اور بیوی چوبیس گھنٹے کام کرتی ہے
کسی بھی وقت کھانا پکانا , پانی پیش کرنا , کپڑے دھونا , بچے سلانا چپ کروانا , کپڑے برتن دھونا , مہمانوں کی ضیافت کرنا , صبح اٹھنا پھر سب کو اٹھانا اور رات کو آخر میں سونا الغرض عورت پر وقت کام میں مصروف ہوتی ہے اور شوہر ہر وقت محافظ ہوتا ہے
یعنی دونوں مصروف ہوتے ہیں تو ایک دوسرے کا لحاظ کیوں نہیں کرتے ؟
کمائی نہ ہو اور پھر مال و جان کی حفاظت کرنے والا نہ ہو تو لوگ جان و عزت لوٹ لیں
اور کام کرنے گھر سنبھالنے والی نہ ہو تو گھر کوڑا کرکٹ بن جائے
تو ایک دوسرے کی اچھی عادات کو یاد رکھیں بلکہ ایک دوسرے کے سامنے سامنے والے کی اچھی عادات کی تعریف کریں
گھر بہار سے بھر جائے گا اگر خامیاں دیکھیں گے تو گھر بھاڑ سے بھر جائے گا
✍️ #سیدمہتاب_عالم
