عجائباتِ_عالم 40
°°° کبھی لگتا ہے اس جگہ پہلے آیا ہوں جبکہ ایسا نہیں ہوتا اس کی کیا وجہ ہوتی ہے °°°
دائیں طرف والی تصویر عراق کے ایک صحراء کی ہے جہاں صحراء میں زمین کی گہرائی کے اندر جنگل دریافت ہوا
بائیں طرف والی تصویر چائنہ کی ہے جہاں زمین سے179 میٹر گہرائی میں ایک جنگل دریافت ہوا ہے
زیرِ زمین الگ دنیاؤں کا وجود ممکن ہے بلکہ بعض اوقات اس کا ثبوت بھی ملتا ہے
مگر وہ لوگ جن کا دنیا کے ذرائع ابلاغ پر قبضہ ہے انہوں نے یہ حقیقتیں چھپا رکھی ہیں
مثلاً دو سبز رنگ کے بہن بھائیوں کا قصہ مشہور ہے جو زمین کے اندر سے آئے تھے وہ سبز رنگ کے تھے صرف سبزہ کھاتے تھے
ہماری دنیا کی آب و ہوا موافق نہ آنے کی وجہ سے پہلے لڑکی مر گئی پھر چند سال لڑکا زندہ رہا وہ بھی مر گیا
اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہٹلر زیرِ زمین دنیا کی کھوج میں فوجیں بھگاتا رہتا تھا جس میں اسے کچھ حد تک کامیابی بھی ملی تھی
مزے کی بات ہے کہ حدیث پاک میں بھی اس طرف اشارہ ملتا ہے کہ اللہ رب العزت کی کچھ مخلوقات ایسی جگہ آباد ہیں جہاں پر سورج کی روشنی نہیں پہنچ پاتی
سات زمینیں حقیقت میں ہیں
خریدۃ العجائب میں ابن الوردی نے اس کا ذکر کیا ہے
اب یہ بھی ممکن ہے کہ ہر زمین دوسری سے لاکھوں کلومیٹر دور ہو
اور یہ بھی ممکن ہے کہ بالکل اوپر نیچے ہوں اور ہماری زمین سب سے اوپر ہے کیونکہ سب سے افضل و اشرف ہے
اس کے نیچے زمینوں پر دوسری مخلوقات ہوں
یہ بھی ممکن ہے کہ ساتوں زمینوں میں ہم جیسے ہمارے نام و کام و شکل و صورت جیسے لوگ آباد ہوں
کبھی کبھی بندہ پہلی بار کوئی کام کرنے لگتا ہے تو خیال آتا ہے یہ کام پہلے کیا ہوا ہے
یا کسی جگہ پر پہلی بار جاتا ہے تو مدھم سا یاد پڑتا ہے یہاں پہلے بھی آیا ہوں
حالانکہ نہ وہ کام پہلے کیا ہوتا ہے نہ اس جگہ بندہ گیا ہوتا ہے
کہتے ہیں Deja vu اسے سائنسی زبان میں
اور یہ تقریباً ہر انسان کے ساتھ زندگی میں ایک دو بار تو ہوتا ہے
مجھے خود اس کا تجربہ ہوا ہے
اس کی حقیقت کیا ہے وہ تو اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں
ہماری ناقص رائے میں ممکن ہے کسی اور زمین پر ہماری شکل و صورت و نام والا بندہ وہ کام پہلے کر چکا ہو
اس کا ہماری ذات سے کچھ نہ کچھ تعلق ہوتا ہے جس کی بناء پر ہمیں محسوس ہوتا ہے ہم یہ کر چکے ہیں جبکہ ہم نہیں وہ دوسرا بندہ کر چکا ہوتا ہے
اس کی دلیل وہ حدیث پاک ہے جو مستدرک حاکم میں ہے
سَبْعَ أَرَضِينَ فِي كُلِّ أَرْضٍ نَبِيٌّ كَنَبِيِّكُمْ ، وَآدَمُ كآدمَ ، وَنُوحٌ كَنُوحٍ، وَإِبْرَاهِيمُ كَإِبْرَاهِيمَ، وَعِيسَى كَعِيسَى
سات زمینیں ہیں ہر زمین میں تمہارے نبی جیسا ایک نبی ہے تمہارے آدم جیسا ایک آدم ہے تمہارے نوح جیسا ایک نوح ہے تمہارے ابراھیم جیسا ایک ابراھیم ہے تمہارے موسی جیسا ایک موسی ہے
(علی نبینا و علیھم الصلوۃ و السلام)
ممکن جس طرح ہماری اس زمین کے انبیاء کرام علیھم السلام کے ہم نام وہاں ہیں اسی طرح وہاں ہماری امت کے ہم نام بھی ہوں گے
اب ایک اشکال کا حل باقی رہ گیا کہ اس حدیث سے ختمِ نبوت پر حرف آتا ہے تو اس کی تاویل وہی جس کا اشارہ اوپر میں نے کر دیا ہے کہ ان زمینوں کا وقت ہماری زمین سے پہلے کا ہے
یعنی وہاں کام پہلے ہوتے ہیں بعد میں یہاں رونما ہوتے ہیں
تو جو ان کے آدم ہیں وہ ہمارے آدم سے پہلے گزرے ان کے عیسیٰ ہمارے عیسی سے پہلے گزرے ان کے آخری نبی ہمارے نبی سے پہلے گزرے ہیں اسی لیئے ہمارے آقا و مولا علی الاطلاق خاتم النبیین ہیں
زمانے کے لحاظ سے بھی اور بعثت کے لحاظ سے بھی خاتم النبیین ہیں
ہر لحاظ سے خاتم النبیین ہیں
کیونکہ رحمۃ للعالمین ہیں
کیونکہ سید المرسلین ہیں
کیونکہ سید العالمین ہیں
دوسرا حل یہ ہے وہ اس مخصوص علاقے یا زمین کے لحاظ سے خاتم النبیین ہیں جبکہ ہمارے مولا و ملجا تمام مخلوقات کے لحاظ سے خاتم النبیین ہیں یہ بھی اسی لحاظ سے کہ ان کا وقت ہم سے پہلے کا ہے
واللہ اعلم و رسولہ
الغرض دنیا عجائبات کا مجموعہ ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

