کہانیوں کا رواج ڈالیں

کامیاب_خواتین 5

اھلِ عرب کی بہترین عادت تھی وہ روتے بچے کو سلاتے نہیں تھے اگر بچہ رونے لگتا تو اس سے کھیلتے کھلاتے حتی کہ بچہ ہنسنے لگ جاتا پھر سلاتے تھے
ان کے نذدیک بچہ روتے ہوئے سوئے تو اس کی عادات و اطوار پر فرق پڑتا ہے
جبکہ ہمارے ہاں مار مار کے سلایا جاتا ہے
طبی طور پر بھی سونے کی حالت میں بچے کے اعضاء بڑھتے ہیں
اسی طرح اندرونی اعضاء کی بڑھوتری ہوتی ہے اور فکری بلوغت بڑھتی ہے
اگر بچہ رونے دھونے اور مغموم کیفیت میں سوئے گا تو اس کی جسمانی قوت کے ساتھ ذہنی و قلبی قوت پر بھی اثر پڑے گا
یہی وجہ ہے ہماری دادیاں نانیاں لوری دے کر سلاتی تھیں بلکہ دنیا کے ہر خطے ہر مذہب کی ماں دادی لوری دے کے سلاتی تھیں
مگر اب زمانہ تیز ماں ڈیجٹل اور جلد اکتا جانے والی ہوگئی ہے اسی وجہ سے لوری کا تصور ختم ہو کے رہ گیا ہے
موبائل دے کر جان چھڑا لیتی ہیں جبکہ موبائل فکری قوت کمزور کرتا ہے
جب سے بچہ ہوش سنبھالتا ہے لوگوں کی باتیں” کارٹون” ڈرامے دیکھتا ہے تو اس کی فکر اپنی کہاں رہ گئی ؟ اپنی فکری قوت معدوم ہوگئی اور سوشل میڈیا سے مستعار لی گئی حماقتیں اس کے کچے ذہن میں پختہ ہو جاتی ہیں
موبائل دینے کی بجائے ماں کو چاہیئے بچوں کو سوتے وقت اسلامی کہانیاں سنائے
انبیاء کرام علیہم السلام اور صحابہ کرام و تابعین عظام نیز علماءِ اسلام اور صوفیاء کرام کے دلچسپ واقعات سنائے
وہ رواج جو ختم ہوگیا ہے اسے اچھے انداز سے زندہ کریں

ایک بات پلے باندھ لیں

آپ ماں ہیں یا باپ ہیں اپنے بچے کی نظر میں دنیا کے سب سے بہترین آدمی ہیں” ہیرو ہیں” سب کچھ آپ ہی جانتے ہیں
جب آپ بچے کو کچھ سنائیں بتائیں گے وہ اسے حرفِ آخر سمجھتا ہے
یہی وجہ تو ہے ماں باپ کو پہلی درسگاہ کہا گیا ہے
اب درسگاہ ہی ویران ہو تو بچہ اسکول سے ہی سیکھے گا خواہ وہ سہی ہو یا اسلام کے مخالف ہو
جب آپ بچوں کے پاس بیٹھ کر کہانیاں سنائیں گے ایک تو والدین اور بچوں میں جو فاصلہ ہوتا ہے وہ ختم ہوگا آپ بچوں کا اور بچے آپ کا مزاج سمجھیں گے دوسرا اسلامی کہانیوں سے ایک بہترین نسل کی بنیاد رکھی جائے گی
سلطان محمد فاتح کی والدہ نے بچپن میں ان کو یہ بات رٹا دی تھی کہ تم نے قسطنطنیہ فتح کرنا ہے تو جوان ہو کر
انہوں نے فتح کر ہی لیا
سلطان ایوبی کی والدہ بھی بچپن میں یہی تربیت کرتی تھیں کہ بیت المقدس کو تم نے آزاد کروانا ہے تو انہوں نے جوان ہو کر واقعی بیت المقدس آزاد کروا لیا
بچے کو مستقبل میں کچھ بنانا چاہتے ہیں تو بچپن سے اسے اس کے متعلق تیار کریں
ماضی میں گزرے بہادوں کے واقعات سنائیں
سوتے وقت آدھا گھنٹہ” پینتالیس منٹ بچوں کو اسلامی کہانیاں قصے سنائیں قلبی راحت ملے گی
اور آنے والی نسل کی بہترین تیاری ہوگی
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top