اسلامی_طرزِتربیت 148
انسان کی طبعیت و فطرت ہے کہ جو اس کے غم و مصیبت میں شریک ہوتا ہے خواہ ایک کلمے سے دلجوئی کرے وہ انسان کبھی نہیں بھولتا
بخاری و مسلم میں ہے
جب سیدی کعب کی توبہ { غزوہ تبوک میں شرکت نہ کرنے کے سبب ان پر عتاب ہوا } قبول ہوئی تو ان کو قبولیت کی خوشخبری سیدی طلحہ نے سنائی تھی
كانَ كَعْبٌ لا يَنْسَاهَا لِطَلْحَةَ
کعب اس خوشی کو طلحہ کی وجہ سے کبھی نہیں بھولے
لہذا غمخواری کریں آپ کی غمخواری کی جائے گی
بھول جائیں بھلا دیئے جائیں گے
اسی طرح بعض روایات میں ہے
سیدہ عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ عابدہ زاہدہ عفیفہ فرماتی ہیں
جب مجھ پر تہمت لگی تو ایک انصاری خاتون میرے پاس آئی اور بغیر کچھ کہے خوب روئی
فرماتی ہیں
میں اسے کبھی نہیں بھول سکتی
یعنی اس نے ایک کلمہ نہ منہ سے نکالا صرف ساتھ بیٹھ کر رو پڑی
اس غمخواری کو سیدہ پاک کبھی نہیں بھلا سکیں
اس امت کا ایک حسن باہم غمخواری بھی ہے اسے برقرار رکھا کریں
✍️ #سیدمہتاب_عالم
