چور امام مسجد

اسلامی_طرزِتربیت 13

ماہِ رمضان میں ایک گھر نے امام مسجد کو افطاری پر بلایا
امام صاحب مقرر وقت پر پہنچ گئے
کچھ وقت باقی تھا دستر خوان سجنے لگا مشروبات و طرح طرح کے کھانے دستر خوان کی زینت بننے لگے
خاتونِ خانہ کام کرتے ہوئے کبھی آ رہی کبھی جا رہی تھی اسی بھاگ دوڑ میں کچھ پیسے ہاتھ کے ہاتھ لگے وہ دستر خوان پر رکھ گئی اور باورچی خانے سے سامان لینے گئی
واپس آئی تو رقم موجود نہیں تھی
امام صاحب نے افطاری کی اور مسجد چلے گئے
خاتون کا شوہر گھر آیا تو خاتون نے بتایا کہ یوں معاملہ ہوا امام صاحب نے پیسے چرا لیئے آپ پوچھیں اور پیسے واپس لیں
شوہر نے کہا مجھے مناسب نہیں لگتا کہ امام صاحب کو چور کہوں اور رقم کا تقاضا کروں بیوی نے زور دیا تو شوہر نے کہا میں ماہانہ خدمت نہیں کروں گا اور ان کے پیچھے نماز نہیں پڑھوں گا
مہینے گزر گئے پھر رمضان المبارک آ گیا
شوہر نے بیوی کو کہا بہت با برکت مہینہ ہے بری بات ہے کہ محلے کے امام صاحب کو ایک بار افطاری پر نہ بلائیں
بیوی نے بھڑک کر کہا پہلے بھی پیسے چوری کر لیئے ہیں
شوہر نے منایا تو کہنے لگی ایک شرط پر دعوت تیار کروں گی کہ آپ رقم کی بات کریں گے
شوہر نے ہامی بھر لی
امام صاحب آئے تو شوہر نے کہا پچھلے سال ایسا ایسا معاملہ ہوا تھا
امام صاحب رو پڑے
وہ آدمی کہنے لگا بس ویسے ہی ذکر کیا ہے آپ روئیں نہیں
امام صاحب نے کہا میں خود پر نہیں آپ لوگوں رو رہا ہوں
قرآن پاک لاؤ اس میں تمہاری رقم رکھی ہے
خاتون قرآن لائی تو واقعی رقم رکھی تھی
اب دونوں میاں بیوی شرمندگی سے پانی پانی تھے
امام صاحب روتے ہوئے کہنے لگے
مجھے دکھ اس بات کا نہیں مجھ پر الزام لگایا دکھ اس بات کا ہے آپ لوگوں نے سارا سال قرآن کریم پڑھا ہی نہیں
اگر قرآن کھول کے دیکھا ہوتا تو پورے سال میرے بارے بدگمانی کا گناہ نہ کماتے
لوگ دوسروں کے بارے فیصلہ کرنے میں بہت جلدی کرتے ہیں اور امام صاحب کے بارے تو اوقات سے بڑھ کر جلدی کرتے ہیں
خود زانی” چور” شرابی” رشوت خور” ظالم ہوتے ہیں مگر امام صاحب کے لیئے ہلکی سی غلطی بھاری قرار دیتے ہیں

امام خیر و بھلائی میں آگے ہونے والے کو کہتے ہیں جبکہ انتظامیہ کی آنکھوں میں سور کا ایسا بال آیا ہوتا ہے ایسے فرعون بنے ہوتے ہیں کہ خیر و بھلائی بھی وہی قبول کرتے ہیں جو ان کی مرضی کے مطابق ہوتی ہے

خود چور اچکے ہوتے ہیں اور امام کو معمولی سمجھتے ہیں

مسجد کے فنڈ کھاتے ہیں” لاکھوں کا فنڈ بینک میں رکھا ہوتا ہے مگر امام کی تنخواہ مزدور سے بھی کم مقرر کر رکھی ہوتی ہے
تف ہے تمہارے چوہدری” ملک” سیٹھ و زمیندار ہونے پر کہ اگر تم امام کی تنخواہ پچاس ہزار مقرر نہ کر سکو

اپنا پیٹ کاٹ کر اپنی زمین کی پیداوار سے نہیں دینا ہوتا جو مسجد کا ہے وہی دینا ہوتا ہے مگر وہ بھی دینے پر موت پڑتی ہے
پھر نجی محافل و خاندانی و علاقے میں شہرت زمیندار و سیٹھ و چوہدری ہونے کی ہے
کیسا چوہدری کہاں کا سیٹھ کہاں کا زمیندار ؟
پورا محلہ مل کر امام کی تنخواہ پچاس ہزار نہیں دے سکتا مگر امام کو باتیں ہر کس و ناکس سناتا ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top