اسلامی_سائنس 8
ملکہ وکٹوریہ نے تاج پوشی پر بلی کی قربانی دی
پچھلے سال یعنی 2021 میں دو امریکیوں ڈیوڈ جولیس اور ایرڈم پوٹاپوشیم کو دنیا کے سب سے بڑے اعزاز نوبل انعام سے نوازا گیا ھے
پتا ھے کس بات پر
چوری پر:
جی ہاں: چوری پر نوبل انعام سے نوازا گیا ہے
اصل میں بات کچھ یوں ھے ان دونوں نے بدن کی حرارت اور حواس خمسہ کے چھونے سے مرض میں کمی وغیرہ کیسے آتی ہے
اسکا سبب دریافت کیا ھے
مثلاً بیماری میں ماں کا چھونا اچھا خاصا افاقہ کر دیتا ہے
مگر آج سے نو سو سال پہلے مسلمان علماء نے اسکا سبب اپنی کتب میں واضح لکھا اور اس کی مکمل تفصیل بیان کر دی تھی
مثلا احمد تیفاشی 580 ھجری میں فوت ہوئے انہوں نے مکمل کتاب اس پر لکھ رکھی ھے
ابن الرضوان اور ابن قیم اور ابن الکرکی اور ابن طولون وغیرہ نے حواس پہ تفصیلی ابحاث لکھ رکھی ہیں
جن کی کتابوں سے چوری کر کے اپنے نام سے شائع کر کے مہذب دنیا میں عظیم کہلاتے ہیں
میں عموما کہتا ہوں ان لوگوں کو جو کہتے ہیں تمہارے پاس کیا ہے؟
تو میں کہتا ہوں
ہمیں ہمارا علم واپس کر دو یورپ کے پاس سوا ھم جنس پرستی کے کچھ باقی نہیں رہے گا
وہ یورپ لوٹ آئے گا جہاں ملکہ وکٹوریہ نے اپنی تاج پوشی کے دن بلی کی قربانی دی تھی
کیونکہ یورپ میں بلی منحوس شمار ہوتی ہے
وہ یورپ لوٹ آئے گا جہاں مظلوم خواتین کو وچ (ڈائن) سمجھ کر زندہ جلا دیا جاتا تھا
وہ یورپ لوٹ آئے گا جہاں نہانا جرم تھا
اور جہاں بادشاہ بھرے دربار میں کھڑا ہو پیشاب کر دیتا تھا
ہر علم ہر فن ہر ایجاد کی جڑ میں مسلمان علماء کا خون پسینہ شامل ہے
جس کو یورپین اپنے نام سے شائع کرتے ہیں
اور لبرل سر دھنتے ہیں کہ جی دیکھو فلاں انگریز نے یہ ایجاد کر دیا وہ ایجاد کر دیا
حالانکہ وہ مسلمانوں کے چوری شدہ علوم تھے یا انکی ایجادات تھیں
اگر کوئی مسلمان محقق عرق ریزی سے کام لے اور دن رات ایک کرے تو ضخیم کتاب مرتب کر سکتا ہے
جس میں فرنگیوں کی علمی سرقہ بازی [چوری] کی بے شمار مثالیں ہو سکتی ہیں
یورپ کے چوروں نے مسلمان سائنسدانوں کے نام بھی بگاڑ دیئے ہیں تاکہ دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک سکیں
مگر ہم ناکام رہے گئے
کیوں ؟
کیونکہ
باپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہو
پھر پسر قابلِ میراثِ پدر کیونکر ہو
✍️ #سیدمہتاب_عالم

