چاند کی تیرہ چودہ پندرہ راتوں کی تاثیر

علوم_القران 12

قرآن کریم میں الله رب العزت نے ارشاد فرمایا
قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَیْكُمُ الَّیْلَ سَرْمَدًا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِضِیَآءٍؕ-اَفَلَا تَسْمَعُوْنَ
تم فرما دو اگر الله تم پر ہمیشہ قیامت تک رات بنا دے تو الله کے سوا اور کون معبود ہے جو تمہارے پاس روشنی لائے تو کیا تم سنتے ہو
دوسری آیت پرھیں
فرماتا ہے
قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَیْكُمُ النَّهَارَ سَرْمَدًا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِلَیْلٍ تَسْكُنُوْنَ فِیْهِؕ-اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ
تم فرما دو اگر الله تم پر ہمیشہ قیامت تک دن بنا دے تو الله کے سوا اور کون معبود ہے جو تمہارے پاس رات لائے تو کیا تم دیکھتے ہو
پہلی آیت میں رات کا ذکر ہے اس کے ساتھ فرمایا کیا تم سنتے ہو
دوسری آیت میں دن کا ذکر ہے اس کے بارے فرمایا کیا تم دیکھتے ہو
اس فرمانِ رب ذوالجلال کی بے شمار حکمتیں ہیں
اس ترتیب کی ایک حکمت یہ ہے کہ رات میں قوتِ سماعت [ سننے کی قوت ] بڑھ جاتی ہے اسی وجہ سے جب قیامت تک رات کا ذکر کیا تو سماعت کا بیان فرمایا
اور دن میں سماعت کم اور بصارت [ دیکھنے کی قوت ] بڑھ جاتی ہے تو جب قیامت تک دن کا ذکر فرمایا تو بصارت کا بیان فرمایا
دن میں شور و غل کی وجہ سے سماعت کی قوت کم ہو جاتی ہے جبکہ روشنی ہونے کی وجہ سے بصارت کی قوت بڑھ جاتی ہے
یہ تو سادہ سی وجہ جو عقل میں آتی ہے
مگر ایک اور حقیقت ہے جس کا اپ تجربہ بھی کر سکتے ہیں
دن میں بھی آنکھیں بند کریں تو سماعت کی قوت بڑھ جاتی ہے
یعنی آنکھوں کے آگے اندھیرا قوتِ سماعت کو بیدار کرتا ہے
پھر رات کے اندر ایسی تاثیر ہے کہ فطری طور پر حسِ سماعت خود بخود بیدار ہو جاتی ہے
دن میں کسی تہ خانے یا بند کمرے میں جائیں اور رات کھلے میدان میں جائیں تجربہ کر لیں رات کا اندھیرا حسِ سماعت کو بڑھا دیتا ہے
چائنیز سائنسدانوں نے ایک تجربہ کیا کہ رات کے اندھیرے اور دن کے اندھیرے میں کیا فرق ہے
اس تجربے کے نتائج یہی آئے کہ رات کے اندھیرے کی اپنی خاص تاثیر ہوتی ہے جو انسان میں خوف تک پیدا کرتی ہے
رات کا وقت کم زیادہ ہوتا ہے اور رات میں رات بنانے والی شے یعنی چاند کی تاثیر الگ ہوتی ہے

رات کے پہروں کی تاثیر الگ الگ ہوتی ہے

رات گزار لیں تو غم مدھم ہو جاتا ہے
چہرہ روشن کرنے میں رات کے آخری حصّے میں بیدار ہو کر نماز پڑھنے کی خاص تاثیر ہے
رات کے آخری حصے میں ہی نیند کا زور پڑتا ہے
رات کے آخری حصے کے خواب اکثر سچے ہوتے ہیں
°°° پہلی کے چاند کو ہِلال اور جب چاند پورا ہو اسے بَدَر کہتے ہیں ہلال کی اپنی تاثیر ہے اور بدر کی اپنی تاثیر ہے °°°
اسی وجہ سے حدیث شریف میں ایامِ بیض کے روزے رکھنے کا حکم ہوا ہے
حدیث شریف میں ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
إذا صمت شيئاً من الشهر فصم ثلاث عشرة وأربع عشرة وخمس عشرة
تم مہینے میں روزہ رکھو تو تیرہ چودہ اور پندرہ کے رکھو
❗ترمذی شریف ❗
ان تین ایام میں ہی روزے رکھنے کی کیا حکمت ہے
ایامِ بیض مراد چاند کی تیرہ چودہ اور پندرہ تاریخیں ہیں
ان تاریخوں میں چاند کی تاثیر کائنات کے تقریباً ہر حصے پر اپنا اثر ڈالتی ہے

سائنسی طور پر ثابت ہے کہ ان تین دنوں میں انسان کی طبیعت میں چڑچڑاپن اور اعصابی تناؤ بڑھ جاتا ہے
اس کی وجہ بھی سائنسی ہے کہ میڈیکل میں ثابت ہو چکا ہے کہ انسانی جسم اسی فیصد پانی سے بنا ہے
اور تیرہ چودہ پندرہ کو چاند کی کشش اتنی بڑھ جاتی ہے کہ وہ سمندر میں موجود پانی میں مد و جزر پیدا کرتا ہے
اسی وجہ سے انسانی جسم میں بھی جو اسی فیصد پانی سے مرکب ہے اس کا کھنچاؤ پڑتا ہے اور اعصابی تناؤ اور چڑچڑاپن پیدا ہوتا
ان ہی ایام میں انسان کے جسم میں فاصل مادے پیدا ہوتے ہیں
روزے رکھ کر ان فاضل مادوں کو خشک کیا جاتا ہے اور جسم کمزور کر کے چاند کی لہروں کی تاثیر کو گھٹایا جاتا ہے
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند کی طرف دیکھا اور سیدہ عائشہ رضی الله عنھا کو فرمایا
يا عائشةُ استَعيذي باللَّهِ من شرِّ هذا فإنَّ هذا هوَ الغاسِقُ إذا وقَبَ
اے عائشہ الله کی پناہ مانگو اس چاند سے کہ یہی غاسق ہے جب وہ پلٹے
❗ابو داؤد شریف ❗
حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہے چاند کی تاثیر اور اس کا کائنات پر اثر کیا ہے
ان تین دنوں میں ہی جادوگر متحرک ہوتے ہیں عملیات کا زور پڑتا ہے
° علامہ قزوینی عجائب المخلوقات ° میں فرماتے ہیں
ان دنوں میں انسانی جسم میں بڑھوتی ہوتی ہے رگیں بھری ہوتی ہیں

فرماتے ہیں
چب چاند کی روشنی بڑھتی ہے جانوروں کا دودھ بڑھ جاتا ہے
جو انسان چاند کی روشنی میں زیادہ بیٹھتا ہے اس کا جسم سست سر درد اور زکام لگ جاتا ہے

چاند کی روشنی میں پھلوں کا رس بڑھتا ہے پھولوں کا رنگ نکھرتا ہے •
اگر درخت چاند کی روشنی میں لگائیں تو پھلدار ہوتے ہیں الغرض ایامِ بیض میں روزے رکھنے کی حکمت واضح ہو جاتی ہے
ایک تو بدنِ انسانی پر چاند کی کشش و تاثیر کم کی جاتی ہے
دوسری شیطانی قوتوں کو روحانی قوت سے ہرا جاتا ہے کہ ان دنوں جادو جنات کے حملے قوی ہوتے ہیں
روزہ دار کی قوت سے وہ بیکار ہو جاتے ہیں
رات میں عجب تاثیر ہے یہ بصارت [ظاہر کی آنکھوں کی قوت] کم دیتی ہے مگر بصیرت [اندر کی آنکھوں کی قوت] بڑھا دیتی ہے
اور قرآن کریم کا یہ کمال ہے کہ یہ بصیرت و بصارت دونوں میں اضافہ کرتا ہے
اور رات کے پہروں میں قرآن مجید پڑھنا تو صحابہ کرام و اولیاء امت کی سنت ہے جو یہ کرے گا اسے دنیا و آخرت کا اندھیرا نہیں ڈرا پائے گا
دیکھئے ایک آیت کریمہ سے کیسے کیسے نکات نکلتے ہیں


سیدمہتاب_عالم# ✍️

Scroll to Top