تصوف_وصوفیاء 19
انقلابی عدد
صوفیاء کرام نے فرمایا
چالیس میں انقلاب ہے
یعنی کوئی بھی کام مسلسل چالیس روز کیا جائے وہ کام انسان کی عادت بن جاتا ہے
اسی کو فطرت ثانیہ کہتے ہیں
چالیس بار کوئی بھی شے بار بار کی جائے اس کی حقیقت و ماہیت بدل جاتی ہے
اول
انبیاء کرام علیھم السلام کو چالیس سال کی عمر میں نبوت عطاء کی جاتی ہے کیونکہ چالیس سال میں مرد کی عقل و فھم و علم میں کاملیت پیدا ہوجاتی ہے
{ یہ مسئلہ ذہن نشین کر لیں کہ انبیاء کرام علیہم السلام کو نبوت کب ملی یہ ظنی مسئلہ ہے نہ تو یہ ضروریاتِ دین سے ہے نہ ضروریاتِ اہلِ سنت سے ہے }
دوم
بچہ ماں کے پیٹ میں چالیس دن نظفہ پھر مضغہ رہتا ہے اسی چالیس کے وقفہ سے بچہ ماں کے پیٹ میں پلتا ھے
سوم
جہاں چالیس مومن ہوں وہاں دعا قبول ہوتی ہے
چہارم
چالیس احادیث کے حافظ کا حشر فقہاء کے ساتھ ہوگا
پنجم
حدیث پاک میں ہے جو چالیس دن اخلاص اختیار کرے اس کی زبان پر حکمت کے چشمے جاری ہوجاتے ہیں
ششم
غریب مسلمان مالداروں سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے
ہفتم
قیامت چالیس سال کی عمر کے لوگوں پر آئے گی نہ کم عمر ہوں گے نہ بوڑھے
ہشتم
دجال لعین چالیس دن دنیا میں رہے گا پھر سیدنا عیسی علی نبینا وعلیہ السلام اسکو قتل کر دیں گے
نہم
حضرت موسی علیہ السلام چالیس دن کوہِ طور پہ رہے
دہم
حضرت عمر فارق چالیسویں مسلمان تھے
نفاس کی آخری حد چالیس روز ہے
حضرت آدم علیہ السلام کی مٹی مبارک چالیس دن گوندھی گئی
چالیس دن سے زیادہ مونچھ ناخن کو نہ کاٹنا منع ہے
چالیس دن بعد روح گھر آکر ایصال ثواب کا تقاضا کرتی ہے
اس لیئے اہل سنہ چالیسواں کرتے ہیں
یاد رکھیں مؤمن کی روح آ کر تقاضا کرتی ہے منافق و کافر کی روح قید کر لی جاتی ہے
اسی وجہ سے مؤمنین ایصالِ ثواب کرتے ہیں اور منافقین کے لیئے کہا جاتا ہے مر گیا مردود نہ فاتحہ نہ درود •••
سیدمہتاب_عالم
