رسم_المفتی 3
عالمِ قریش امام اجل مجتہدِ مطلق محمد بن ادریس الشافعی فرماتے ہیں
من تفقه من بطون الكتب ضيع الأحكام
جس نے کتابوں سے فقہ سیکھی اس نے احکام ضائع کر دیئے
فقہاء کرام نے فرمایا
من أعظم البلية تشيخ الصحيفة
بلاؤں میں سے سب سے بڑی بلاء یہ ہے کہ کتاب کو شیخ بنا لیا جائے
❗ تذکرۃ السامع و المتکلم لابن جماعة ص ٨٧ ❗
جس کا استاذ کوئی ماہر مفتی نہ ہو جو اس کی تہذیب کرے اس پر تنقید کرے اور پھر اصلاح کرے وہ طالبِ علم منجھا ہوا مفتی نہیں بن سکتا
بعض علماء کرام نے فرمایا
من تفقه من بطون الكتب بدل الأحكام ومن طب من بطون الكتب قتل الأنام
جس نے کتابوں سے فقہ سیکھی وہ احکامِ شریعہ بدل دے گا اور جس نے کتابوں سے طب سیکھی وہ بندوں کو مار دے گا
❗ المعید فی ادب المفید ❗
اردو میں کہتے ہیں
نیم حکیم خطرہَ جان نیم ملاں خطرہَ ایمان
اعلی حضرت فرماتے ہیں
فقہ و طب اس شعبے کے ماہر کے پاس بیٹھ کر ہی حاصل کی جا سکتی ہے
طالبِ علم جس فن میں مہارت چاہتا ہو تو اس فن کے ماہر کی خدمت میں بیٹھا کرے
ہمارے زمانے میں طلباء ایک بڑی غلطی کرتے ہیں کہ ایک مشہور ہستی کی شاگردی میسر آگئی تو سب کچھ اسی سے حاصل کرنے کی کوشش ہوتی ہے جبکہ ایسا نہایت کم ہوتا ہے کہ استاذ جامع المعقول و المنقول ہو
لکل فنِ رجالٌ ہر فن کے الگ آدمی ہوتے ہیں
پھر ایک غلطی ہمارے ہاں یہ بھی کی جاتی ہے کہ ایک دو سالہ تخصص میں طالبِ علم صرف اصولِ فقہ پڑھتا ہے رسمِ افتاء سے واقف ہوتا ہے مگر فراغت کے بعد مطلقاً مفتی بنا دیا جاتا ہے یعنی حدیث و تفسیر عقائد و تصوف کا بھی مفتی بنا دیا جاتا ہے
بہر حال ہر فن استاذ سے سیکھ کر بیٹھا جائے ورنہ شگوفے ہی چھوڑے گا
✍️ #سیدمہتاب_عالم
