علوم_القران 2
اخبار الحمقیٰ میں ابن الجوزی نے اور محاضر الادباء میں اصفہانی نے لکھا
ایک نحوی کہتے ہیں کہ ایک جنازے کے گزرنے پر کسی نے پوچھا
مَن المُتوَفِی؟
تو میں نے کہا
ھو الله
تو لوگوں نے مجھے اتنا مارا کہ میں مرنے کے قریب ہوگیا
کیونکہ
سائل کا مقصد تھا کہ مرنے والا کون ھے؟
تو اس لحاظ سے اسکو مَن المُتَوَفَیٰ کہنا چاہئے تھا
مگر اس نے نحوی غلطی کرتے ہوئے مُتَوَفَیٰ (مرنے والا) کہنے کی جگہ مُتَوَفِی (مارنے والا) کہ دیا
یعنی سوال کر بیٹھا مارنے والا کون ہے؟
اور میں نے اسی حساب سے جواب دیا کہ مارنے والی ذات تو اللہ کی ہے
مگر لوگوں میں علمِ نحو کی سمجھ بوجھ نہ ہونے کی وجہ سے مجھے ہی پیٹ ڈالا
ایک دوسری روایت میں اتنا ہے کہ سائل کے سوال پر ھو الله کا نعرہ لگانے والے مولا علی تھے
مگر وہاں آپ پر سختی اور آپ سے جھگڑے کا ذکر نہیں ہے
کیونکہ نحو کی بنیاد رکھنے والے مولا علی ہیں اور فصاحت و بلاغت میں بے مثال ہیں مولا علی
مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے والذین یَتَوَفون منکم پڑھا ھے
جبکہ باقی قراءت میں یُتَوفون منکم ہے
مولا علی کی قراءت کے مطابق یہ فعل لازم ہوگا جس کا معنی استیفاء الاجل ھے
جبکہ بقیہ قراءت میں متعدی ہوگا
نحو میں کمزوری علوم میں خامی کی نشانی ہے
اسی لیئے سیدنا عمر فاروق کا فرمان ہے
من لم یعرف العربیۃ فلا ثقۃ لہ فی العلوم
جو عربیت میں پختہ نہیں اس کو دوسرے علوم پر مہارت نہیں حاصل ہوتی
نحو بادشاہوں کا فن ہے کیونکہ شطرنج کی طرح یہ بھی ذہن کو کبھی تھکا دیتا ہے کبھی تازہ دم کر دیتا ھے
اور پھر تعجب ھے ان احمقوں پر جو نحو کی ن سے واقف نہیں ہوتے مگر علماء پر طعن کرتے اور علوم اسلامیہ میں اپنی کم عقلی کے گھوڑے دوڑاتے ہیں
ایسے ہی لوگ مُتَوَفَیٰ کو مُتَوَفِی کہتے ہیں اور پھر ڈھٹائی سے علامہ فھامہ بنتے ہیں
خصوصاً قرآن کریم میں کلام کرنے کے لیئے کم و بیش پچیس علوم پر مہارت ہونا لازم ہے
مگر ظالموں نے سب سے زیادہ قرآن ہی میں کلام کرنا آسان سمجھا ہوا ھے
اگر آپ نے قرآن کریم سمجھنا ہے تو خود سمجھنے کی جگہ کسی مستند عالم کے پاس بیٹھ کر سمجھیں ورنہ گمراہی مقدر ہوگی
کیونکہ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے بھی قرآن اپنی عقول سے نہیں حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی عطاء کردہ فھم سے سمجھا ہے
تو جو اس طریقے سے ہٹے گا گمراہ ہوگا
قرآن کریم سمجھنے کے لیئے عربی اشعار , دیہاتی عربیوں کے واقعات , ضرب الامثال و محاورے پڑھنا سمجھنا ضروری ہے
اسی وجہ میں اھلِ عرب کے نادر قصے و اشعار پڑھتا لکھتا ہوں
تاکہ طلباء میں عربیت کا ذوق پیدا ہو
تمام علوم سیکھنے کا مقصدِ واحد قرآن کریم کو سمجھنا ہے
سیدمہتاب_عالم# ✍️
