عجائباتِ_عالم 45
الفوائد المنتخبة والحكايات المسترغبة
میں امام ابن بشکوال
(جن کی وفات 579 ھجری ھے) نے لکھا ہے
مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے مقرر کردہ قاضی شُریح کے پاس ایک عجیب مقدمہ آیا
ایک خنثیٰ مشکل
(جس خواجہ سرا میں مرد اور عورت دونوں کی شرمگاہیں ہوں)
آیا
اور کہا میرا مسئلہ حل کریں
قاضی شُریح نے پوچھا کیا مسئلہ ہے؟
کہنے لگا کہ میرے چچا کے بیٹے نے مجھ سے شادی کی تو میں نے اپنے پیٹ سے اس کا بچہ پیدا کیا
پھر میں نے ایک عورت سے شادی کی تو میرا بیٹا اس عورت کے پیٹ سے پیدا ہوا
اب سمجھ نہیں آرہا کہ میں مرد ہوں یا عورت ہوں؟
قاضی صاحب حیران و پریشاں تھے کہ مولا علی تشریف لائے
قاضی شُریح نے سارا معاملہ مولا علی کی بارگاہ میں رکھ دیا
مولا علی نے فوراً فرمایا کہ فلاں خادم کو بلاؤ اور اس کے ساتھ دو بوڑھی عورتوں کو بھی بلاؤ
جب وہ آئے تو فرمایا کہ اس خنثیٰ مشکل کو سامنے مکان میں لے جاؤ
اور اس کی قمیض اتار کر اس کی پسلیاں شمار کرو اور مجھے بتاؤ کتنی ہیں؟
جب انہوں نے پسلیاں شمار کیں تو وہ گیارہ تھیں
مولا علی نے حجام کو بلایا اور حکم دیا اس خنثیٰ کے لمبے بال کاٹ دو
اور اس کو مردانہ جوتے پہنائے
مردانہ کپڑے پہننے کو دیئے
اور فرمایا جاؤ
تم مرد ہو
آئندہ عورتوں جیسا حلیہ اختیار نہ کرنا
قاضی شُریح نے عرض کیا اے امیر المومنین آپ نے یہ فیصلہ کس دلیل سے کیا؟
فرمایا اللہ رب العزت کے فرمان سے کیا
عرض کی
حضور کیسے؟
فرمایا اللہ رب العزت نے جب آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا تو آپ کی بارہ پسلیاں تھیں
جب آپ کو تنہائی سے وحشت ہوئی تو نیند کی حالت میں آپ کی ایک پسلی سے سیدہ اماں حواء رضی اللہ عنھا کو پیدا فرمایا
تب سے مردوں کی گیارہ پسلیاں اور عورتوں کی پوری بارہ پسلیاں ہوتی ہیں
کتنا سادہ اور شفاف طریقہ بیان کیا نہ میڈیکل بورڈ نہ عدالتوں کے چکر میں گواہوں کے بیانات چند منٹوں میں دنیا کا مشکل ترین فیصلہ فرما دیا
آج کل ملک پاکستان میں خواجہ سرا کے بارے قانون کے چرچے ہیں
اور یہ بظاہر ان کے حقوق کی حفاظت کے پردے میں مسلمانوں میں بے حیائی عام کرنے کا راستہ ہے
ایسے میں اپنے بچوں بچیوں کو اس پرفتن دور میں اس قانون کے مضر اثرات سے بچانے کے دو طریقے ہیں
ایک تو مشکل ہے اور وہ خلافت کا قیام ہے
دوسرا یہ ہے کہ اپنے بچوں بچیوں کی تربیت اسلامی طرز پر کی جائے گی
بچوں بچیوں کو با حیاء دیندار اور اسلامی علوم کی بہت حد تک سمجھ بوجھ دلائی جائے
تو ان شاءاللہ بچے بچیاں اس گندگی سے بچے رہیں گے
اس کی ایک مثال تو ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے
کچھ سال پہلے انڈیا میں تین طلاق بل کی مخالفت میں لاکھوں مسلمان خواتین باپردہ احتجاج کرتے ہوئے نکلیں تھیں
خواتینِ اسلام کو بخوبی علم تھا کہ تین طلاق سے گھر تباہ ہوجاتا ہے مگر یہ مرد کو دیا گیا اسلامی حق ہے جس کو کوئی سیکولر لبرل حکومت ختم نہیں کر سکتی
یہ اسلامی تربیت ہی تھی جس نے باپردہ خواتین کو سراپا احتجاج بنا ڈالا کہ ہم مسلمان خواتین کو وہی قبول ہے جو ہمارے رب نے ہمارے مردوں کو حق دیا ہے
ہمیں ہماری ہمدردی کی آڑ میں طلاق بل نامنظور ہے کہ جو مرد تین طلاق دے گا وہ جیل جائے گا ہمیں یہ منظور نہیں ہے
کیونکہ اس کو یہ حق ہمارے رب العزت نے دیا ہے
اگر اسی طرح اسلامی تربیت کی جائے تو ان شاءاللہ ملک پاکستان میں بھی ٹرانس جینڈر ایکٹ کے نقصانات عوام خود کنٹرول کر سکتی ہے
اور حقیقت یہی ہے کہ یہ وہ زمانہ ہے جس کے بارے روایات میں آیا کہ مومن قبر کے پاس سے گزرے گا تو فتنوں کی کثرت کی وجہ وہ تمنا کرے گا کہ کاش وہ اس قبر میں ہوتا
دوسری روایت میں ہے
قرب قیامت میں مومن اپنے بچوں کو فتنوں سے بچانے کے لیئے ایک جگہ سے دوسری جگہ یوں لیکر پھرے گا جیسے لومڑی اپنے بچوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لیئے پھرتی ہے
ہمیں خود ہی اپنے آپ کو اپنے بیوی بچوں کو فتنوں سے بچانا ہے
حکومت وقت سے اس کی تمنا رکھنا انتہائی غفلت کی بات ہے
ابھی تو فتنوں کی ابتداء ہے اپنے ذہنوں میں جتنی جلدی ہو سکے یہ بات بٹھا لیں کہ حکومتیں نہ آپ کے مال کی محافظ ہیں نہ جان کی
ایمان کی حفاظت تو ان کا مقصد و منشور ہے ہی نہیں
خلافت ہوتی تو سب سے پہلے آپ کے ایمان کی حفاظت ہوتی
مگر جب تک خلافت قائم نہیں ہوتی بچوں کو دینداری سکھائیں دنیاوی علوم دنیاوی فنون دنیا داروں سے حتی الامکان دور رکھیں ورنہ یہی اولاد آپ کو جنت سے انتہائی دور لے جائے گی
❗ اب ایک اہم نکتہ ہو اعتراض کی صورت مذکورہ واقعے پر اٹھتا ہے
کہ میڈکلی مرد و عورت کی پسلیاں ایک جیسی ہیں
تو اس کا سادہ سا جواب ہے کہ سائنس خود انسانی جسم میں ارتقاء ثابت کرتی ہے عین ممکن ہے تب ایسا ہو اور اب ارتقائی تبدیلی کے باعث نہ ہوتا ہو کیونکہ یہ بھی مسلم ہے کہ ڈی این اے میں بھی صدیوں بعد بدلاؤ ہوتا ہے تو جسم کی ساخت میں کیوں نہیں ؟
✍️ #سیدمہتاب_عالم
