مخلوق کی محبت خالق تک لے جاتی ہے

عشقِ_الہی_مقصدِ_حیات 17

منصور حلاج سے پوچھا گیا کہ ہم کب عشق الٰہی ک پہنچ سکتے ہیں؟
فرمایا
عندما تتذوق العشق البشري فلن تتذوق من نهر المحبة الإلهية إلا إذا غرقت في نهر المحبة البشرية

جب تم بشری عشق کا ذائقہ چکھ لو
محبتِ الٰہی کی نہر سے ایک چلو تک نہیں پی سکو گے جب تک بشری محبت میں غرق نہ ہو جاؤ
یعنی مجازی حقیقی تک پہنچنے کا ذریعہ ہے

مگر یاد رکھیں
حرام کرنے والے جہنم میں جائیں گے مقامِ عشق تو دور کی بات ہے
یہاں مجازی سے مراد صرف جنسِ مخالف کی محبت نہیں بلکہ ہر مخلوق کی محبت ہے حتی کہ اصفیاء کفار سے بھی بوجہ مخلوقِ خدا محبت کرتے ہیں
یہی وجہ ہے حدیث مبارکہ میں آیا
فإذا قتلتُم فأحسِنوا القِتلةَ
تو جب تم قتل کرو تو اچھے انداز سے قتل کرو
یہ رحم کی ہی صورت ہے جو کہ محبت کی مُخبِر ہے
“لہذا حیوانات و نباتات و جمادات سے محبت کریں کیونکہ یہ ہمارے محبوبِ حقیقی کی تخلیقات ہیں پھر بندہ حقیقی محبت کا مزہ پائے گا”

✍️ سیدمہتاب_عالم#

Scroll to Top