اسلامی_طرزِتربیت 88
ایک مصری شخص نے بیس سال کویت میں امامت کی پھر وہ اپنے گاؤں واپس چلا گیا اور چاہا کہ جمع پونچی سے ایک مسجد بنا دی جائے اور عمرِ عزیز کا آخری حصہ اپنے گاؤں میں گزارا جائے
وہ خود بھی مزدوروں کے ساتھ مل کر اللہ تعالیٰ کا گھر بنانے میں مصروف ہو گیا
ایک دن نہایت ہی پھٹے پرانے اور کیچڑ سے لتھڑے کپڑوں میں تھک ہار کر سڑک کے کنارے بیٹھ گیا اور سر جھکا کر حساب و کتاب کرنے لگا
اسی وقت ایک بوڑھی عورت کا وہاں سے گزر ہوا اس عورت نے ایک سکہ نکال کر امام صاحب کے ہاتھ پر رکھ دیا
امام صاحب بِدک کر بولے یہ کیا ہے؟
بوڑھی عورت نے کہا اللہ کی قسم میرے پاس یہی ایک سکہ تھا جو آپ کو دے دیا اگر اور ہوتے وہ بھی دے دیتی
( بوڑھی عورت سمجھی کہ یہ منگتا ہے اور کم دینے کر غصہ کر رہا ہے )
امام صاحب نے اپنے ڈرائیور کو اشارہ کیا کہ ان کو گھر چھوڑ کر آؤ اور دیکھ کر بتاؤ ان کے حالات کیسے ہیں؟
••• ڈرائیور نے واپس آ کر بتایا
اس بوڑھی عورت کے خاوند کا انتقال ہوگیا اس کی چار بیٹیاں ہیں ایک کی شادی ہوگئی ہے •••
تین ابھی بیٹھی ہیں گھر نہایت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے کھانے پینے کو کچھ بھی نہیں ہے کما کر دینے والا بھی کوئی نہیں ہے_
امام صاحب سوچ میں پڑ گئے کہ اتنے مشکل حالات اور پھر بھی صدقہ و خیرات؟
اب اس عورت کی امداد کیسے کی جائے؟
حالات ٹھیک کرنے میں لاکھوں لگ جائیں گے
اسی وقت امام صاحب کو کویت سے ایک شیخ کی کال آگئی جو اس کا مقتدی تھا کویتی شیخ نے کہا جناب زکوۃ کا زمانہ ہے اگر آپ کے گاؤں میں کوئی مستحق ہو تو بتائیں میں اور میرے بھائی زکوۃ ادا کرنے والے ہیں
امام صاحب حیرت سے اچھل پڑے اور
امام صاحب نے اس بوڑھی عورت کا قصہ سنا دیا شیخ نے کہا کہ آپ اس عورت کا گھر تعمیر کروائیں اسکی بچیوں کی شادیاں کروائیں میں سارا خرچہ اٹھاؤں گا بلکہ ہر مہینے ان کا خرچہ بھی بھیجا کروں گا
نیت کا پھل اور صدقہ کرنے کا بدلہ ضرور ملتا ہے
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم اٹھا کر فرمایا کہ صدقہ کرنے سے مال کم نہیں ہوتا
دوسری جگہ فرمایا
سبق درھم مائۃ الف درھم
ایک درھم ایک لاکھ درھم پر بھاری ہوجاتا ہے
یعنی ایک بندہ ایک روپیہ خرچ کرتا ہے دوسرا ایک لاکھ مگر ایک روپے والے کا ثواب زیادہ ہوتا ہے کیونکہ لاکھ والے کے پاس لاکھوں باقی ہیں جبکہ روپے والے کے پاس دو تھے یعنی اس نے آدھا مال خرچ کر دیا
مجھے ایک صاحب نے بتایا کہ ایک خاتون جو گلی محلوں میں بھیک مانگتی ہے وہ ایک دینی ادارے کی تعمیرات میں حصہ ڈالنے کے لیئے دو گٹو سیمنٹ کے بطور عطیہ دے گئی ہے
اصل مالداری دل کی مالداری ہے
جو راہِ خدا میں خرچ کرتا ہے اللہ ربّ العزت اس پر خزانوں کے دروازے کھول دیتا ہے
غرباء و فقراء کو دل کھول کر دیں ہو سکتا ہے لینے والا آپ سے زیادہ سخی ہو اور آپ سے لیکر وہ آگے تقسیم کرتا ہو
✍️ #سیدمہتاب_عالم
