حکمة العرب 36

اِنَّ اللہَ اِذَا اَحَبَّ عَبْدًا کَشَفَ لَہٗ حَقِیْقَۃَ النَّاسِ مَنْ حَوْلَہٗ
فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ نُطِیْعُہٗ بِصَفَاءِ النَّوَایَا فَیُجَازِیْنَا بِنُوْرِ الْبَصِیْرَۃِ
جب اللہ رب العزت کسی سے محبت کرتا ہے تو بندے کے لیے
اس کے ارد گرد کے لوگوں کی حقیقت کھول دیتا ہے تمام
تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں کہ ہم نے جس کی اطاعت صاف
نیتوں سے کی تو اس نے ہمیں بصیرت کا نور عطاء فرمایا
دنیا کی حقیقت اور دنیا میں موجود لوگوں کی حقیقت کا آشکار ہونا اللہ رب العزت کی بڑی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے اور جب بندے پر لوگوں کی جفا و حقیقت کھلتی ہے تو بندہ تنہائی اختیار کرتا جاتا ہے
سید مہتاب عالم
