لا لو لی بمقابلہ اخاک اخوک اخیک

المزاح_و_الظرافت 17

ایک طالبِ علم کی نحو اچھی نہیں تھی وہ اکثر غلطیاں کرتا تھا
اس کی ایک مشہور نحوی کے بھائی سے دوستی تھی
ایک دن وہ اس نحوی کے پاس گیا تاکہ پوچھے اس کا بھائی کہاں ہے
پھر اسے خیال آیا میں نحوی غلطیاں کرتا ہوں کہیں اس کے سامنے بھی غلط جملہ نہ بول دوں تو اُس نے اِس مشکل کا حل یہ نکالا کہ نحوی کے پاس جا کر حالتِ رفعی نصبی جری تینوں کو ایک ساتھ ملا کر پوچھا

ھل اَخَاکَ اَخُوکَ اِخِیکَ ھنا ؟

نحوی نے جواباً کہا

لا لو لی ھنا

طلباء کبھی کبھار ایسی ایسی پھلجھڑیاں چھوڑتے ہیں کہ بندہ بلا اختیار ہنسنا شروع کر دیتا ہے
ایک طالبِ علم نہایت محویت کے ساتھ کتاب کے ایک صفحے کو گھورے جا رہا تھا
کافی دیر استاذِ محترم دیکھتے رہے
آخر کار خود پوچھا بیٹا کونسا مشکل مقام سمجھ نہیں آرہا؟
کہنے لگا استاذ صاحب باقی سب سمجھ آگیا بس یہ کُتا بچہ لکھا ہوا ہے اس کی سمجھ نہیں آرہی کہ کیا تعلق ہے اس عبارت میں تو استاذِ محترم نے فرمایا دکھاؤ ذرا
دیکھا تو کِتابچہ تھا جسے وہ کُتا بچہ سجھ رہا تھا

زندگی کے حسین دن بہترین یادیں زمانہَ طالب علمی کی ہوتی ہیں
دوڑ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تو
جہاں کوئی لا لو لی سن رہا ہے تو کوئی کُتا بچہ پڑھ رہا ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top