تصوف_وصوفیاء 39
°°° کس جہاد پر کیا انعام ملتا ہے °°°
سیدی عبد العزیز الدباغ مصری الابریز شریف میں فرماتے ہیں
° بچہ جو منہ سے لفظ اغ نکالتا ہے اصل میں یہ سریانی زبان میں اللہ ربّ العزت کا نام ہے اس کا معنی لطف و علو ہے گویا کہ بچہ کہتا ہے یا علی یا لطیف یا حنان °
ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں
قبر میں سوال و جواب سریانی زبان میں ہوں گے
امام سیوطی نے فرمایا کہ سریانی زبان میں سوال و جواب ہوں گے
ابن حجر نے فرمایا کہ حدیث کا ظاہر کہتا ہے کہ عربی میں ہوں گے اور ممکن ہے کہ مختلف زبانوں میں سوال و جواب ہوں
سیدی عبد العزیز الدباغ فرماتے ہیں کہ سریانی ملائکہ و ارواح کی زبان ہے
اور جب بندہ ولایت کے درجے پر فائز ہوتا ہے تو اسے یہ زبان خودبخود آجاتی ہے
نہ صرف زبان بلکہ اللہ رب العزت بندہ مومن کو جب ولی بناتا ہے تو اس کو علوم و فنون کے خزانے عطاء فرما دیتا ہے
جیسا کہ حدیث پاک میں آیا ہے
مَنْ عَمِلَ بِما عَلِمَ أَوْرَثَهُ الله عِلْمُ ما لَمْ يَعْلَمْ
جس نے جو سیکھا اس پر عمل کر لیا اللہ رب العزت اس کو وہ سکھائے گا جو اس بندے نے سیکھا بھی نہیں تھا
{ امام حارث محاسبی کے رسالۃ المسترشدین میں اور امام ابونعیم نے حلیہ میں اس روایت کو بیان کیا }
قرآن کریم سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے
وَ الَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَاؕ
جنہوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ضرور ہم انہیں اپنے راستے دکھادیں گے
سیدی فضیل بن عیاض کا فرمان ہے
اس آیت سے مراد یہ بھی ہے کہ جو علم کی کوشش کرے گا ہم اس کو علم کے راستے دکھائیں گے
یہاں ہر ایک نفیس نکتہ یاد رکھیں کہ اللہ رب العزت نے جہاں گمراہی و شر کا ذکر فرمایا وہاں سبُل و طُرُق یعنی راستہ کی جمع راستے ذکر کیا
کیونکہ گمراہی کے کئی راستے ہیں یہودیت و عیسائیت شرک و کفر وغیرہ مگر جہاں ھدایت کا ذکر کیا وہاں واحد صراط یا سبیل ذکر کیا کیونکہ ھدایت کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ اسلام ھے
مگر مذکورہ آیت میں سُبُل جمع ذکر کیا
°°° اسکی حکمت یہ ہے کہ حصولِ علم کے کئی راستے ہیں جیسا کہ فضیل بن عیاض نے فرمایا کتابوں سے سینوں سے اختلاف لیل و نہار سے اور کائنات کے توازن سے حصولِ علم کے کئی راستے نظر آتے ہیں °°°
یا معنی یہ ہے کہ جو مجاہد کوششش کرے گا ہم اسکو شہادت کا مقام دیں گے
جو طالب علم کوشش کرے گا ہم اس کو علماء ربانی کا مقام دیں گے
جو عبادت میں کوشش کرے گا ہم اسکو قرب کا مقام دیں گے
اور سب راستوں کی مرکزی شاہراہ ہماری رضا ھے ہم ان سب کو وہ دیں گے
امام اھل سنت احمد بن حنبل نے فرمایا
ما اتخذ اللہ ولیا جاھلا و لو اتخذہ لعلمہ
اللہ تعالیٰ نے کسی جاہل کو ولی نہیں بنایا اگر بنائے تو پہلے اس کو علم سکھاتا ھے
کشف الخفاء میں ابن حجر مکی کا قول منقول ہے
معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اولیاء پر علوم القاء فرما دیتا ھے جس سے وہ دوسرے لوگوں سے ممتاز ہوتے ہیں
تنویر الحلک میں امام سیوطی نے امام غزالی کا المنتقد من الضلال سے قول نقل کیا کہ
” اگر دنیا بھر کے عقلاء و علماء کی جمع ہو جائیں تو بھی اولیاء کرام کے اخلاق و احوال کو بیان نہ کر پائیں { یعنی ان کے علوم تک رسائی نہ ہو پائے گی } کیونکہ اولیاء کرام نبوت کے چراغ سے روشنی پاتے ہیں “
یہی وجہ ہے کہ علماء ظاہر صوفیاء کرام کی باتوں کا شدت سے انکار کر دیتے ہیں کہ ظاہری علماء کی علومِ اولیاء تک رسائی نہیں ہوتی
اسی پر سید الطائفہ جنید بغدادی نے فرمایا
تصدیق طریقنا ولایۃ
ہمارے راستے کی تصدیق کرنا ہی ولایت ہے
کیونکہ اولیاء کی باتوں کی وہی تصدیق کرے گا جو ان میں سے ہوگا
اور جو ان میں سے نہیں ہوتا اگرچہ کتنا بڑا عالم ہو تکذیب کر دیتا ھے.
اللہ رب العزت ہمیں بھی ان نفوس قدسیہ کے زمرے میں رکھے اٹھائے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
