فناء و بقاء

عشقِ_الہی_مقصدِ_حیات 40

ذوق ثــم شوق, ثم عشــق , ثم وصـل, ثم فنـــاء ثم بقـــاء

پہلے ذوق پھر شوق پھر عشق پھر وصل پھر فناء پھر بقاء ہوتی ہے
❗ السهـروردي ❗
یعنی پہلے پہل کسی شے کا ذوق ہوتا ہے تب اس میں شوق اس سے ملنے کا شوق ہوتا ہے پھر جب شوق حد سے بڑھے تو عشق بن جاتا ہے اس کے بعد وصل ہوتا ہے اور جب وصل ہو تو محبوب میں فناء ہونا ہوتا ہے جب اپنی ذات محبوب کی ذات میں فناء کر دی جائے تو مقامِ بقاء نصیب ہوتا ہے
اور وہ عشق ہی کیا جس میں فنائیت نہ ہو
جب تک میں ہے تو نہیں ہو سکتا لہذا سب سے پہلے اپنی میں ماریں پھر عشق کا پھل کھائیں
عشق کی لذت ایسی کہ نار گلزار لگے , صحراء میں نمازِ عشق ادا کی جاتی ہے , سب اُس کے راہ میں لٹا کر جان لٹانے کی چاہت بڑھ جاتی ہے
تبھی نماز میں لطف و قرار آتا ہے کیونکہ محب محبوب سے باتیں کرتا ہے
سیدمہتاب_عالم# ✍️

Scroll to Top