غبارِ مدینہ کی تعظیم کے لیئے با وضوء ہونے کے باوجود تازہ وضوء کرنا

عشقِ_سیدِ_عالم 19

سلطنت عثمانیہ کے سلاطین کا حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق نہایت قابل تقلید عمل ہے
سلطان عبد العزیز خان آخری عمر میں پیروں کے شدید مرض میں مبتلاء ہوگئے تھے
اس کے باوجود جب مدینہ پاک سے ایک خط آیا تو سلطان نے حکم دیا مجھے اٹھا کر کھڑا کرو
میں اس عظیم شہر سے آئے خط کو بیٹھ کر نہیں کھڑے ہو کر سنوں گا
سلطان عبد العزیز خان کی بڑی پیاری عادت تھی کہ
مدینہ پاک سے کوئی ورق یا خط آتا تو اسے با وضوء ہونے کے باوجود تازہ وضوء کر کے ہاتھ لگاتے تھے
وہ فرماتے تھے اس کاغذ پر حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک شہر کا غبار لگا ہوتا ہے
جسے تازہ وضوء کر ہے چھونا ہی ادب ہے
پہلے اس مبارک کاغذ کو چومتے پھر پیشانی پر لگاتے پھر سونگھتے پھر کھول کر پڑھتے تھے
اللہ اللہ
کیسا عشق تھا یہی وجہ ہے کہ ترکیوں میں آج بھی حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا عشق باقی ممالک سے منفرد ہے
سلطان عبد الحمید خان تین بر اعظموں کے شہنشاہ ہونے کے باوجود اپنے ہاتھوں سے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی مزار مبارک کی صفائی کے لیئے جھاڑو تیار کرتے تھے
بے شمار ممالک کے بادشاہ ہونے کے باوجود اس بارگاہ میں غلامانہ حاضری ترکی بادشاہوں کا منفرد انداز رہا ہے

اس گلی کا گدا ہوں میں جس میں
مانگتے تاجدار پھرتے ہیں
ترکی عوام کا
حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک نام آنے پر ہلکا سا سر جھکا کر سینے پر ہاتھ رکھنے کی عادت دل موہ لیتی ہے
اللہ رب العزت ہمیں اس مبارک عشق میں زندہ رکھے اور اسی میں موت دے
اللھم صل و سلم و بارک علیٰ سیدنا و مولانا محمد کما تحب و ترضی لہ
سیدمہتاب_عالم# ✍️

Scroll to Top