الحب_و_العشق 36
ایک عربی شاعر نے کہا
ما زِلْتُ أعْذِلُ أهْلَ الحٌبِ مُجْتَهِداً
حَتى وَقَعْتُ أنا في شَرِ أعْماليْ
میں ہمیشہ محبت کرنے والوں کو خوب ملامت کرتا تھا حتیٰ کہ میں خود اس بڑی مصیبت میں پڑ گیا
اردو شاعر نے اس معاملے کو یوں تعبیر کیا
تیرے ملنے سے جو مجھ کو ہمیشہ منع کرتا ہے
اگر وہ بھی ترا دیوانہ بن جائے تو کیا کیجئے
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی الله عنہ نے ایک ایسے شخص کو دیکھا جو گرفتارِ محبت تھا تو عشق سے پناہ مانگی اس آدمی کو برا نہیں کہا کیونکہ یہ فطری شے ہے
عبید اللہ بن مسعود الھذلی فقہاءِ سبعہ میں سے ہیں یعنی مدینہ پاک کے ان سات فقہاء میں سے ہیں کہ تاقیامت جن ک *ا فیض جاری و ساری رہے گا ان کی جلالتِ علمی کے آگے بڑے بڑوں کی دستاریں زمین بوس ہو جاتی ہیں
ان کی شان اتنی بلند ہے کہ امت کے پہلے مجدد سیدی عمر بن عبد العزیز خلیفہ راشد ان کے بارے فرماتے ہیں
لأن يكون لي مجلس من عبيد الله أحب إلي من الدنيا
عبید اللہ کی مجلس میں بیٹھنا مجھے دنیا بھر سے زیادہ محبوب ہے
❗تاریخ الاسلام للذھبی ❗
وہ عبید اللہ بن مسعود شعر کہتے ہیں
كتمتَ الهوى حتى أضرّ بك الكتمُ
ولامكَ أقوامٌ ولومُهُم ظُلمُ
تو نے محبت چھپائی حتیٰ کہ محبت میں ضبط نے تجھے نقصان پہنچایا اور لوگوں نے تجھے محبت میں ملامت کی جبکہ ان کا ملامت کرنا ظلم ہے
کیونکہ جو بندہ محبت میں ضبط سے کام لیتا ہے وہ اندر ہی اندر گھلتا ہے
اسی پر شاعر نے کہا
عشق میں گھل گھل کے آدھا ہو گیا
لو مسیحا اب میں مو سا ہوگیا
یعنی گھل گھل کے بال سا باریک ہوگیا ہوں
کسی نے عبید اللہ بن عتبہ کو کہا آپ یہ شعر کہتے ہیں ؟
فرمایا
فی اللّدود راحة المفئود
لدود میں بیمار دل کی راحت ہے
❗التمھید لابن عبد البر الاندلسی ❗
لدود ایک دوائی جو ناک کے ذریعہ چڑھائی جاتی تھی
یعنی شعر کہ کر دل کو سکون بخشتا ہوں
محبت پر اجلہ علماء و اکابر فقہاء کے اشعار جمع کریں تو ایک دفتر بن جائے گا
کوئی بھی کسی بھی طبقے کا فرد اس مرض کا شکار ہو سکتا ہے
مگر علماء مبتلاء ہوتے ہیں تو اشعار کے ذریعہ یا نکاح کے ذریعہ یا کتمانِ عشق سے یا استغراقِ مطالعہ کے ذریعہ یا اسفارِ بلدان کے ذریعہ یا صبر کے ذریعہ سہ لیتے ہیں
واویلا نہیں کرتے حرام نہیں کرتے معاشرے میں فساد و فتنہ کا سبب نہیں بنتے
الغرض علم ایسی طاقتور شے ہے جو عشق جیسے بے لگام گھوڑے کو لگام ڈال دیتی ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
