عقیدت نے کتنا عقیدہ بگاڑا ہے

آلِ_رسول_محبوبِ_رسول 42

حضرتِ عبد الله بن حسن بن حسن جو کہ عبد الله المحض سے مشہور ہیں یہ پہلے نجیب الطرفین فاطمی ہیں فرماتے ہیں
میں حضرت عمر بن عبد العزیز کے پاس کسی حاجت کے لیئے حاضر ہوا تو عمر بن عبد العزیز نے مجھے فرمایا
لشکر میں ایک شخص کو طاعون کا مرض لگ گیا ہے
ارحل فإنك لن تَغْنَم أهلك مثل نفسك فقضى حوائجي وأتبعني إياها
آپ جائیں آپ کے گھر والے آپ کی مثل کچھ نہیں پائیں گے پھر انہوں نے پوری حاجت پوری کی اور وہ سامان میرے پیچھے پیچھے بھیج دیا
تاریخِ دمشق میں ہے کہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے فوری واپس بھیج دیا تاکہ ان کو بیماری نہ لگے اور جو ان کی حاجت تھی وہ سامان پیچھے روانہ کر دیا
❗ الاشاعة لاشراط الساعة ص ١٢٨ ❗
سیدی عمر بن عبد العزیز امت کے پہلے مجدد تھے یہ مجتہد بھی تھے
قاعدہ ہے لا یعرف الفضل لاھل الفضل الا ذو الفضل فضل والوں کا فضل وہی پہنچانتا ہے جو خود فضل والا ہو
_خاندانِ نبوت میں سے کوئی شخص کسی کام سے آئے تو امتی کہلانے والوں کو وہ کام مکمل کیئے بغیر چین کیسے آ سکتا ہے ؟_
اس زمانے کے فتنوں میں ایک فتنہ عقیدت میں کمی بھی ہے
کچھ لوگ رونا روتے ہیں کہ عقیدت نے عقیدے بگاڑ دیئے ہیں
میں کہتا ہوں والله بالله تالله لله العظیم میں سید ہوں حسینی فاطمی ہوں ساری زندگی علمی ماحول میں گزری اب بھی گزر رہی ہے مگر میں نے جتنا پرایا فرق اپنے ساتھ دیکھا ہے اور دیگر سادات کے ساتھ دیکھا ہے کہیں نہیں دیکھا
ہمارے اھلِ علم تعظیم و تکریم کا معنیٰ جانتے ہوئے تذلیل کرتے ہیں
اور آپ روتے ہیں کہ سادات کی عقیدت نے عقیدوں میں بگاڑ پیدا کر دیا ہے
ایک جامعہ میں سید طالبِ علم کو یہ کہ کر پیچھے بٹھایا جاتا ہے کہ یہ سر چڑھ جائیں گے
جس عقیدت پر عقیدے کی بگاڑ کی آپ بات کرتے ہیں وہ سادات کی کرتا کون ہے ؟
میں پیر نہیں نہ آستانہ ہے خالص علمی بندہ ہوں پھر سید جانتے ہوئے کما حقہ تعظیم و تکریم کو کیا شے مانع تھی ؟
یہ وہ عرض کیا جو ہم گزار آئے ہیں اب تو گوشہ نشین ہیں اور کسی کی پرواہ نہیں ہے
نہیں معلوم کون سے سادات ہیں جن کی تعظیم کرتے کرتے یہ لوگ تھک گئے ہیں جو اب سادات کرام کو عام سمجھنے کا رواج ڈال رہے ہیں بلکہ پیچھے بٹھانے پر بضد ہوتے ہیں
لہذا یہ منجن بیچنا چھوڑ دیں کہ عقیدت نے عقیدہ بگاڑ دیا ہے
ہم جیسے علمی بندے کی عزت نہیں کی جاتی تو عام سید تو بیچارہ دوگنا عذاب کا مستحق ہوا
نماز میں اللھم صل علی محمد و علی آل محمد میں آل کا پہلا مصداق یہی ساداتِ کرام ہیں اگرچہ اپ تاویلات کر کے متقیوں کو بھی شامل کر دیں
اِن سے محبت اِن کی تعظیم و تکریم اصل میں اِن کی اصل کی تعظیم و تکریم ہے اور اِن کی اصل جنابِ محمد مصطفی صلی الله علیہ و سلم ہیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top