تصوف_وصوفیاء 52
عقل کا حسن کیسے بڑھتا ہے
ایک حکیم شخص نے کہا
العقول لها صورٌ مثل صور الأجسام
لوگوں کی عقلیں جسمانی صورتوں جیسی صورتیں رکھتی ہیں
❗زھر الآداب ❗
کیونکہ عقل بھی ایک مخلوق ہے بلکہ اعلی ترین مخلوق ہے تو صورت سے پاک نہیں ہو سکتی
مسلمانوں کی عقلیں نہایت حیسن و جمیل نفیس و لطیف صورتیں رکھتی ہیں
غیر مسلموں کی عقل بھدی قبیح و بیہودہ ہوتی ہیں
ایک مسلمان کی عقل ظاہر کی جائے تو اس کا حسن دنیا کے ہر حسن کو مات دے دے
اور ایک غیر مسلم کی عقل دکھائی جائے تو بدبو اور سیاہی سے زمین تا آسمان تاریک ہو جائے.
اور پھر مسلمانوں میں سے علمِ دین بڑھنے سے عقل کا حسن بڑھتا ہے
عمل سے مزید حسنِ عقل بڑھتا ہے
بعض روایات میں آیا
الثواب علی قدر العقل
ثواب عقل کی مقدار کے مطابق ملے گا
اس کا معنی ہے
المعرفۃ علی قدر العقل
معرفتِ الٰہی عقل کے مطابق ہوتی ہے
تو جتنا بڑا عارف باللہ ہوگا اس کا ثواب بھی زیادہ ہوگا
جو عقل معرفت زیادہ رکھتی ہے اس پر انوار کے بادل برستے اور تجلیات کی بارشیں ہوتی ہیں
اور وہ عقل جس قالب میں وہ قالب ظاہری حسن و جمال سے بھر پور ہوتا ہے
یہی وجہ ہے اولیاء کرام اندرونی حسن و جمال کی وجہ سے ظاہری باجمال نظر آتے ہیں
لہذا اگر آپ اپنے ظاہر کو اچھا کرنا چاہتے ہیں تو عقل کو معرفت سے مزین کریں
عقل کی صورت اچھی ہوگی تو اس شعاع دل پر پڑے گی اور دل کی چمک چہرے پر صاف نظر آتی ہے!
✍️ #سیدمہتاب_عالم
