طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 32
°°° قوم کب بالغ ہوگی °°°
عجیب مگر کڑوی حقیقت ہے کہ ہماری قوم ایسی ہوگئی ہے کہ سسنجیدگی و متانت , علم و تحقیق , سکون و وقار کی جگہ مذاق مسخری،کم علمی بلکہ جہالت و کاپی پیسٹ اور شور و غل پسند کرتی ہے
مثالیں ملاحظہ ہوں
سنجیدہ علماء کی جگہ بھانڈ قسم کے خطباء کو سننا پسند کیا جاتا ہے
علماء سے مباحثہ تحقیق کے نام پر کر لیا جاتا ہے اور گوگل سرچ کر کے علماء کو نیچا دکھایا جاتا ہے
محقق علماء کی جگہ شعلہ بیاں اور جذباتی مقررین کو سنا جاتا ہے
یہی وجہ ہے آپ کو کتب خانوں پر رش کم بلکہ نہ ہونے کے برابر اور محافل میں جم غفیر نظر آتا ہے
کم علمی اور تحقیق سے خالی معاشرے کی وجہ سے مفت لائبریریاں تو ختم ہی ہوگئی ہیں
اصلاحی مقررین میں بھی ان کو سنا جاتا ہے جن کا انداز دل کو لبھانے والا ہو ان کے سوا اصلاحی علماء ایک آنکھ نہیں بھاتے
جو مقرر ہلا گلا مار دھاڑ کی بات کرے وہ پسندیدہ اور مصلح ناپسند رہتا ہے
علماء نے دین بیچ دیا اور سیاست دانوں نے خرید لیا اب وہ مرضی کا اسلام چاہتے ہیں
عرب میں اھل سنت کو صوفی کہتے ہیں اور بر صغیر میں سنیوں کو تصوف کا ذرہ محسوس نہیں ہوتا یعنی کہ شدت بے جا اور بغاوت کے جراثیم پیدا کر دیئے گئے ہیں
تنگ ذہنی ایسی کہ پاکستان میں ایک مسئلہ ہو تو سارے اسلام پر خطرہ آگیا یہ نعرہ لگا دیا جاتا ہے کہ اسلام ہر حملہ ہوگیا ہے اسلام خطرے میں ہے
اس جدید دور میں اختلافی مسائل میں عرب علماء سے مشاورت کرنا بر صغیر کے علماء اپنی توہین سمجھتے ہیں یا شاید بھول گئے ہیں
خدا کے بندو صرف تم ہی مسلمان نہیں ہو تم ہی دین کا درد نہیں رکھتے ہو تمہارے ملکوں میں مسائل اسلام کو مٹا نہیں دیں گے
تم تو ایسا دکھاتے ہو گویا عرب تیس ملک گویا کہ زمین پر وجود رکھتے ہی نہیں ہیں
یہاں کا مسئلہ عالم اسلام کا مسئلہ نہیں ہے
قوم ذہنی طور پر بالغ کب ہوگی کب اسلاف کو پڑھے گی کب صوفی بنے گی کچھ سمجھ نہیں آتا ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
