عرب شریف میں بت پرستی کا آغاز

حوادثِ_آخری_الزماں 6

« بت پرستی شروع ہونے کا سبب »

انا للہ
مدینہ منورہ سے تین سو کلو میٹر دور العلا شہر میں پتھر کی مورتی رکھ دی گئی ہے
اور یوں حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان پورا ہونے کے قریب ہے
جو کہ مسلم شریف میں ہے
لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَضْطَرِبَ أَلَيَاتُ نِسَاءِ دَوْسٍ عَلَى ذِي الخَلَصَةِ
قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک قبیلہ دوس کی عورتوں کے کولہے ذی الخلصہ کے گرد نہ ہلنے لگیں
یعنی ذی الخلصہ نامی بت کا طواف نہ کرنے لگیں

مسلم شریف کی دوسری حدیث پاک میں ہے
لا يذهب الليل والنهار حتى تعبد اللات والعزى
قیامت آنے سے پہلے لات و عزیٰ کی پوجا کی جائے گی
اور یہ بات واضح معلوم ہے کہ لات و عزیٰ عرب کے بت ہیں تو ان کی پوجا بھی عرب میں ہی کی جائے گی

نجد کے بدوؤں نے مزارات صحابہ شہید کر دیئے کہ شرک کے اڈے ہیں جبکہ دوسری طرف بت بنا کر رکھے جا رہے ہیں
مندر کھولے جا رہے ہیں
ایسے بے ادبوں سے اللہ ہمیں بچائے
عرب شریف میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ بیان سے باہر ہے
اسلام کی مقدسات شہید کر کے شرک و کفر کے نشان پھر سے تازہ کیئے جا رہے ہیں
اور یہ دورِ آخر کی نشانی ہے
° بڑے سمجھنے کی بات ہے کہ دوبارہ بت پرستی کیوں شروع ہوئی ؟ °
اس کی وجہ قوم پرستی ہے
یہ بدو اتنے سخت قوم پرست ہیں کہ ان کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اپنے اجداد نہیں لگتے بلکہ ان سے پہلے کے مشرک اجداد لگتے ہیں اسی وجہ سے ان کی باقیات کو تلاش کر رہے ہیں
لہذا قوم پرستی سے بچیں
یہ قوم پرستی کافر کر چھوڑتی ہے
پنجاب کے قوم پرست پنجابی سکھوں کو ہیرو مانتے ہیں
سندھ کے قوم پرست سندھی راجہ داہر کو مانتے ہیں
اسلام کو کوئی نہیں مانتا نہ ان کا تعلق ہے
قوم نہیں ایمان بچائیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top