تصوف_وصوفیاء 3
سیدی حاتم الاصم نے فرمایا
علامة القلب الميت ثلاثة اشياء كلما عمل الخير لا يجد لذة وكلما يذنب لا يجد له خوفاً وكلما يرى القبر لا يجد له اعتباراً
مردہ دل کی تین نشانیاں ہیں
جب بھی نیکی کا کام کرے گا اس میں لذت و سرور نہیں محسوس کرے گا
جب بھی گناہ کرے گا تو خوفِ خدا نہیں محسوس کرے گا
اور جب بھی قبر کو دیکھے گا تو اس سے عبرت حاصل نہیں کرے گا
ہم لوگ عبادت کریں بھی تو بطورِ عادت کرتے ہیں اور عادت پوری نہ ہو تو بے چینی ہوتی ہے مگر اس کے کرنے میں سکون نہیں ہوتا
عبادت کو بطور عبادت کرنا ہے تو
الله رب العزت کی محبت میں کریں
اپنے اندر محبتِ الٰہی بڑھائیں
محبتِ الٰہی کیسے بڑھتی ہے ؟
الله رب العالمین کی نعمتیں یاد کریں اس کی رحمتیں ذہن میں رکھیں اس کی عطائیں پردہ پوشیاں یاد کریں
پھر یوں نماز پڑھیں کہ ہر ہر لفظ کا معنیٰ ذہن میں ہو
سبحانک اللہم کہنے پر الله رب العزت کی پاکی کے معانی و مفاہیم ذہن میں رکھیں
یونہی آخر تک نماز کے ہر ہر لفظ کا معنیٰ ذہن میں بٹھائیں جہاں تسبیحات پڑھیں تو فخر کریں ہم کائنات کے رب کے بندے ہیں کسی بت مورتی کو نہیں پوجتے
جب الله اکبر کہیں تو اپنے عجز کو تسلیم کریں
اللہ رب العزت کی کبریائی کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ کھربوں کھربوں میلوں پر پھیلی کائنات کا اکیلا مالک ہے
جب دعاء کریں تو اپنے گناہوں کو یاد کریں
خاص طور پر ان گناہوں کو جن کو رب العزت کے سوا کوئی نہیں جانتا پھر شکر کریں کہ اس نے ہمارے یہ عیوب کھولے نہیں
جب عبادت یوں کریں گے تو دل میں لذت آئے گی اور گناہ کے وقت خوف آئے گا
اور دل زندہ ہوگا
اللہ تعالیٰ ہمیں زندہ دل رکھے
دل مردہ دل نہیں ھے اسے زندہ کر دوبارہ
کہ یہی ھے امتوں کے مرض کہن کا چارہ
✍️ #سیدمہتاب_عالم
