صحبتِ الہی و محفلِ الہی

تصوف_وصوفیاء 75

ایک بذرگ سے سوال ہوا
آپ تنہائی پر کیسے صبر کرتے ہیں ؟
یعنی ہمیشہ اکیلے رہتے ہیں اکتاہٹ و الجھن نہیں ہوتی
انہوں نے بڑا ہی خوبصورت جواب ارشاد فرمایا

أنا جليس ربي إذا شئت أن يكلمني قرأت القرآن واذا شئت أن أكلمه صليت ركعتين
میں اپنے رب کی محفل میں بیٹھتا ہوں
جب میں چاہتا ہے میرا رب مجھ سے کلام کرے تو میں قرآن کریم پڑھتا ہوں اور جب میں چاہتا ہوں اپنے رب سے کلام کروں تو دو رکعت نماز پڑھ لیتا ہوں

الله الله
کیا خوب تنہائی کا استعمال ہے
جب بندہ تنہائی میں ذکرِ الٰہی کرتا ہے تو فرشتے اس کے پاس آتے ہیں وہ فرشتوں کی صحبت میں رہتا ہے
اسی وجہ سے وہ پر سکون رہتا ہے
اور جب بندے کا دل و دماغ ذکرِ الٰہی سے خالی ہو اور بندہ تنہاء ہو تو شیاطین اس کے ارد گرد بیٹھتے ہیں
کیونکہ ذکرِ الٰہی سے خالی ذہن و قلب شیطان کا گھر ہوتا ہے
اسی وجہ سے وہ تنہاء رہ کر بھی گُناہوں میں مبتلاء رہتا ہے
سیدی عبد اللہ بن مبارک کو لوگوں نے کہا
اپ تنہاء رہ کر وحشت زدہ نہیں ہوتے ؟
فرمایا

كيف أستوحش وأنا مع النبي صلى الله عليه وسلم وأصحابه؟
میں کیسے وحشت زدہ ہو سکتا ہوں جبکہ میں تو حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی اور حضور کے صحابہ کی صحبت میں بیٹھتا ہوں
یعنی حدیث کی کتب پڑھتا ہوں
❗ صفة الصفوة لابن الجوزي ❗
کتابیں پڑھنا اُن کتابوں میں موجود لوگوں کی صحبتوں میں بیٹھنا ہے اور عربی مقولہ ہے الطبائع سراقة طبعیتیں بہت چوری کرتی ہیں یعنی جس کے پاس بیٹھیں اس کی اچھی بری عادت کا اثر قبول کرتی ہیں
اب تین صحبتیں ہیں
صحبة الله
یعنی الله کی صحبت
صحبة الملائكة
فرشتوں کی صحبت
صحبة الرسول
حضور کی صحبت اور حضور کے صحابہ کی صحبت
چوتھی صحبت تو زہرِ قاتل ہے اور وہ شیاطین کی صحبت ہے
دینی کتب پڑھیں گے تو پہلی تین صحبتوں کا لطف پائیں گے اور دنیاوی کتب پڑھیں گے موبائل و ٹی وی پر دنیا داروں کو دیکھیں تو شیطانی صحبت پائیں گے
اب سب آپ کے سامنے ہے آپ کے بس میں ہے
اچھی صحبتوں سے دل کو سکون و اطمینان قرار و راحت دیں گے یا بری صحبت سے بے چینی و ذہنی الجھن مسلط کریں گے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top