صحابہ کیوں صحابہ تھے

تعظیم_و_تکریمِ_صحابہ_فرض_ھے 7

سیدی عمر فاروق اعظم رضی الله عنہ کے اس ایک فرمان نے میری عقل کے دریچے کھول دیئے مجھ پر ایک راز منکشف ہوا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کیونکر خیر الامت [امت کے سب سے بہترین لوگ] ہیں
فرمایا
إخدِم الأقوَام حتّى تُخدم
لوگوں کی خدمت کرو حتیٰ کہ تمہاری خدمت کی جائے
❗سیر اعلام النبلاء ” عیون اخبار ❗
صحابہ یوں صحابہ تھے کہ جو زبانِ مصطفیٰ سے نکلا زمین آسمان ہو جائے آسمان ڈھے جائے وہ بات ضرور پوری ہوگی
جب یہ یقین ان کے قلوب و اذہان میں راسخ ہوگیا تو پھر نماز وقت پر پہلی صف میں پڑھنے لگے کہ ان پر ملنے والا ثواب یقینی ہے
پھر صدقہ کثرت سے کرنے لگے کہ ان کے نبی نے فرما دیا صدقہ سے مال کم نہیں ہوگا
پھر شہادت کو سعادت سمجھنے لگے
کہ جنت میں جائیں گے اور آل و اولاد کو پیچھے جو مقدر ہے وہ ضرور ملے گا ہم زندہ ہوں یا نہ ہوں بہر صورت ملے گا
مذکورہ فرمانِ عمر فاروق بھی اسی یقین کا حصہ ہے
حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
البر لا يبلى والإثم لا ينسى والدَّيّانُ لا يموت فكن كما شِئْتَ كَما تَدِينُ تُدانُ
نیکی پرانی نہیں ہوتی گناہ بھلایا نہیں جاتا بدلہ دینے والا رب مرتا نہیں جیسے مرضی ہو جاؤ جیسا کرو گے ویسا بھرو گے
❗جامع صغیر ❗
جب ایسے کلمات زبانِ اقدس سے نکلتے تو صحابہ کرام بلا چوں چراں کے ان پر عمل کرتے
اور خوش دلی سے کرتے تھے
اس بلا حیل و حجت والی اطاعت و بغیر کھوٹ کے محبت اور عقلی گھوڑے دوڑائے بغیر سر تسلیم خم کرنے والے دل کی وجہ سے وہ خیر الامت تھے
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زبانوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے سامنے کبھی کیوں ؟ کس لیئے ؟ کیا یہ ممکن ہے ؟ عقل نہیں مانتی ؟ محال ہے ؟ نا ممکن ہے ؟
جیسے کلمات نہیں نکلے اسی لیئے وہ خیر الامت تھے
منصب و فضیلت کی تقسیم کاری پر کسی نے کبھی یہ نہیں کہا فلاں کو یہ منصب دیا کیوں کس بناء پر ؟ فلاں میں یہ فضیلت رکھ دی کیوں کیا وہ اھل ہے ؟
اسی وجہ سے وہ صحابہ تھے
وہاں عقلیت اور انا کی کلیتاً نفی تھی
اسی لیئے وہ صحابہ تھے
وہاں صرف تسلیم تھی انکار تو دور کی بات ہے شک و شبہ” تاخیر و تردد کا وجود نہ تھا
ایک صاحب جن کی کنیت ابو عَم٘رۃ تھی
رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گذرے فرمایا
کیف حالک یا ام عَم٘رۃ
ام عمرہ کیا حال ہے
ان صاحب نے فوری اپنا ہاتھ اپنی شرمگاہ کی طرف بڑھایا
فرمایا کیا کر رہے ہو ؟
عرض یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب آپ نے مجھے ام عمرہ کہا تو خدا کی قسم مجھے لگا میں عورت بن گیا ہوں
فرمایا میں بھی انسان ہوں مزاح کرتا ہوں
❗الحکایات المستغربہ لابن بشکوال ❗
یہ یقین یہ ایمان تھا تبھی وہ صحابہ تھے
مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم ہجرت کی رات بستر پر سو گئے جبکہ یقین تھا آج کفار حملہ کریں گے تبھی ہجرت ہو رہی ہے مگر وہ پرسکون سو گئے کیونکہ یقین تھا جو حضور نے فرمایا تھا امانتیں واپس کر کے تم مدینے آجانا زندہ رہوں گا ہی رہوں گا
تبھی وہ صحابہ تھے
اگر آپ صحابہ کرام کے نقشِ قدم پر چلنا چاہتے ہیں
تو حضور کے ہر فرمان پر بغیر عقلی دلائل و سائنسی دلائل کے عمل کریں
یہی وجہ ہے بعض علماء کرام نے فرمایا
جو حدیث آپ نے سنی خواہ ضعیف ہو ایک بار اس پر عمل ضرور کر لیں
تاکہ اس کی برکت ملے
یہی ایمان بالغیب ہے یہی افضل ترین ایمان ہے یہی صحابہ کی شان ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top