تعظیم_و_تکریمِ_صحابہ_فرض_ھے 8
سیدی عبد العزیز الدباغ المصری فرماتے ہیں
تین سو ساٹھ اسباب ہیں جو اِس اُمت کو الله رب العالمین سے دور کرتے ہیں
لا شعوری طور پر اِس اُمت کے اکثر افراد اس میں مبتلاء ہیں
آخری سبب جو بیان کیا وہ بہت سمجھنے کا ہے اور وقت کی حاجت ہے
خلفاء اربعہ رضی الله عنھم میں تفریق کرنا
فرمایا
تفریق کا معنی بعض سے محبت کرنا ” بعض سے بغض رکھنا ہے جیساکہ خوارج و روافض کرتے ہیں
ان نفوسِ قدسیہ میں تفریق الله رب العزت سے دور کرنے کا سبب ہے
کیونکہ ان میں سے ہر ایک نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی ایک خاص عادت کا وارث ہے
تو اُس ایک خلیفہ سے بغض اصل میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بغض تک لے جاتا ہے
اس وجہ سے کسی ایک خلیفہ سے بغض رکھنے والا الله رب العزت سے دور ہوتا ہے
پھر آگے چاروں خلفاء راشدین کی وہ عادات شمار کی ہیں جو ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وراثت میں ملی ہیں
سیدی صدیق اکبر کہ خصلتِ مبارکہ ایمان ہے یعنی بلا تردد ایمان لانا اسی وجہ سے صدیق اکبر کا ایمان روئے زمین کے تمام مومنوں کے ایمان سے بھاری ہے
سیدی عمر فاروق کی خصلت جو ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وراثت میں ملی وہ مؤمنوں کے لیئے بھلائی کرنا ہے
ایثار کا جذبہ اور مسلمانوں کے فلاحی کام اسی کا اثر ہیں
سیدی عثمان غنی کی مبارک خصلت وہ حیاء ہے کہ فرشتے بھی ان حیاء کرتے ہیں اور حیاء ایمان کا اہم ترین جزء ہے
مولا علی کی خصلت بہادری ہے کہ شجاعت ہر دینی کام آگے بڑھ کر بغیر کسی خوف کے سر انجام دینا ہے
مزید فرمایا
ہر صحابی حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی نہ کسی عادت مبارک کا وارث ہے
اسی وجہ سے کسی ایک بھی صحابی سے بغض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بغض ہے
{الابریز شریف ص 326}
خلفاء راشدین میں سے ایک ہستی سیدی امام حسن کی بھی ہے
جن کا ذکر شیخ عبد العزیز الدباغ المصری نے نہیں کیا
امام حسن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جس عادت مبارکہ کے وارث ہیں وہ اصلاح بین المسلمین ہے
جس کا اظہار امام حسن نے خلافت ترک کر کے سیدی امیر معاویہ کے حوالے کر دینا ہے
بہر حال کسی ایک صحابی سے بغض اصل میں اس میں موجود خصلتِ رسول سے بغض ہے
اسی وجہ سے بغضِ صحابہ رکھنے والا الله رب العزت کی بارگاہ سے مردود ہوتا ہے
خواہ سنیت کے لباس میں ناصبی ہو یا رافضی بہر صورت مردود ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
